مورخہ : 14.4.2016 بروز جمعرات

پانامہ سکینڈل میں مزید افراد کے نام سامنے آنے سے نئے پنڈورہ بکس کھلنے کا امکان ہے۔ میاں افتخار حسین
لیکس کی بہت سی تفصیلات کا سامنے آناا بھی باقی ہے۔ اس ایشو کو پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ تک محدود نہ رکھا جائے۔
ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ پر مرکزی اور صوبائی حکومتیں مسلسل جھوٹ بولتی آ رہی ہیں۔
صوبے کی سیاسی اور معاشی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے جس کے باعث عوام میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔
پنجاب میں مبینہ آپریشن کی سست روی سے لگ رہا ہے کہ صوبائی حکومت اور فورسز میں اعتماد کا فقدان ہے۔ باچا خان مرکز میں وفود سے بات چیت

پشاور(پ،ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے مرکزی حکومت کی جانب سے عمران خان اور اُن کی جانب سے نوازشریف پر محض الزامات لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں فریقوں کی مکمل اور غیرجانبدار تحقیقات کی جائیں ،اورجن پر بھی الزامات سچ ثابت ہوجائیں ان کے خلاف بلاامتیاز وبلاتفریق قانونی کارروائی کی جائے ۔جتنے بھی لوگ اس سکینڈل میں ملوث رہے ہیں ان میں سے ہر کسی کو گرفت میں لایا جائے اور اس سنگین ایشو کو محض پولیٹکل پوائنٹ سکورنگ تک محدود نہ رکھا جائے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق میاں افتخارحسین نے باچا خان مرکز میں وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ لیکس کے بارے میں کسی کے خلاف بیان بازی یاالزام لگانے میں محتاط رویہ اور طرز عمل اپنایا جائے ،کیوں کہ ریکارڈ کا بقیہ حصہ ابھی منظرعام پر نہیں آیا ہے اور بہت سی تفصیلات کا سامنے آنا ابھی باقی ہے جس میں تقریباً دو سو سے زائد نامی گرامی افراد کے نام شامل ہیں، جس سے یہ بات بھی خارج ازمکان نہیں کہ بقیہ ریکارڈ میں ان افراد کے نام بھی سامنے آجائیں جو آج دوسروں کو موردالزام ٹھہرا رہے ہیں اور شائد اس سے ملک میں ایک نیا پنڈورہ بکس کھل جائے ۔انہوں نے ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں مرکزی اور صوبائی حکومت دونوں مسلسل جھوٹ بول رہی ہیں، حالانکہ اب تو حقیقت کھل گئی ہے کہ مرکزی حکومت نے کسٹم ایکٹ صوبائی حکومت کی بھیجی گئی سمری پرنافذ کیاہے،جس سے صوبائی حکومت کی قلعی کھل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ایک جانب ملاکنڈ کے عوام دہشت گردی،بدامنی اور قدرتی آفات سے متاثر ہوئے ہیں دوسری جانب ان پریہ ظالمانہ ٹیکس بھی لگانے کی کوشش ہورہی ہے جو کہ سراسر ناروا ناانصافی ہے، اور جسے کسی صورت نافذنہیں ہونے دیں گے،انہوں کہا کہ حکومت کو ملاکنڈ کے عوام کی قربانیوں اور مشکلات کا ادراک کرنا چاہئے اوروہاں کی تعمیر و ترقی کے لیے خصوصی پیکج دیاجائے تاکہ اس سے دہشت گردوں کے حوصلے پست اور عزائم کمزور ہوجائیں۔انہوں نے کہا صوبہ خیبرپختون خوا کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے اور عوام میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے لہذا حکومت صوبے کے عوام کو چند سالوں کے لیے ٹیکسز سے مستثنی ٰ قرار دیں،انہوں نے پنجاب میں آپریشن کے حوالے سے کہا کہ آپریشن کی رفتار سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت اور سیکورٹی فورسز کے مابین باہمی اعتماد کا فقدان ہے جس کے باعث آپریشن سست روی کا شکار نظر آرہا ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے پورے ملک میں ایک تناور درخت کی شکل اختیار کررکھی ہے۔ لہذا جہاں جہاں بھی اس کی جڑیں موجود ہیں ان کی مکمل بیخ کنی کرنی ہوگی اور ملک کے جس حصے سے بھی دہشت گردی،انتہاپسندی اور فرقہ واریت کی نظریاتی تعلیم پھیلتی ہے ان تمام سرچشموں کو بندکرنا ہوگا ۔