مورخہ : 3.5.2016 بروز منگل

پانامہ سکینڈل بحران سے نکلنے کیلئے تمام فریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ میاں افتخار حسین
ایسے کسی بھی رویے یا مطالبے سے گریز کیا جائے جس سے جمہوریت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔
اے این پی سب کی غیر جانبدارانہ اور قابل قبول تحقیقات اور محاسبے کی حامی ہے۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پانامہ سکینڈل کی تحقیقات سے متعلق اے این پی کا مؤقف باالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ جب تک ایک قابل قبول تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے معاملے کی تحقیقات نہیں کی جاتیں تب تک ملک اور جمہوریت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش سے گریز کیا جائے۔
باچا خان مرکز پشاور میں پارٹی وفود سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے پہلے دن ہی سے یہ مؤقف اپنایا ہوا ہے کہ پانامہ سکینڈل میں شامل تمام افراد کا غیر جانبدارانہ اور قابل قبول کمیشن کے ذریعے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اس معاملے کو محض کسی ایک شخص ، پارٹی یا طبقے تک محدود نہ رکھا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ کہ اسی مؤقف کا اظہار پارٹی کے وفد نے گزشتہ روز ہونے والی اے پی سی کے اجلاس میں بھی کیا جبکہ اس سے قبل اپوزیشن کے علاوہ حکومتی کمیٹیوں کے ساتھ کیے گئے تبادلہ خیال کے دوران بھی یہی مؤقف اپنایا گیا تھا کہ جب تک تمام سیاسی قوتوں کو قابل قبول فارمولے اور طریقہ کار کے مطابق تحقیقات نہیں کی جاتیں تب تک کسی بھی ایسے اقدام یا مطالبے سے گریز کیا جائے جس کے نتیجے میں ملک عدم استحکام سے دوچار ہو اور جمہوریت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہوں۔
اُنہوں نے کہا کہ TROs کے بارے میں بھی اے این پی اپنی تجاویز دے چکی ہے اور پارٹی کو توقع ہے کہ سیاسی سکورنگ کی بجائے تمام قوتیں معاملے کی سنگینی اور نزاکت کا احساس کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گی۔