مورخہ : 19.3.2016 بروز ہفتہ

پارٹی مخالف سرگرمیوں کی پاداش میں اے این پی پشاور اور صوابی کے عہدیداران کے خلاف کارروائیاں
اے این پی پشاور کے بارہ (12) ارکان کی رکنیت ایک ایک سال کیلئے معطل
ضلع صوابی کے (17) عہدیداران اور کارکنوں کی رکنیت ایک سال اور چھ چھ ماہ کیلئے معطل کی گئی
زیدہ اور انبار کی تنظیمیں توڑ دی گئیں، صوبائی صدر کا تحقیقاتی کمیٹیوں اور کابینہ کے فیصلوں کی روشنی میں کارروائیاں

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی مخالف سرگرمیوں اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر تحقیقاتی کمیٹیوں کی سفارشات اور کابینہ کے متفقہ فیصلوں کی روشنی میں پشاور کے بارہ (12) پارٹی ارکان کی پارٹی رکنیت ایک سال کیلئے معطل کی ہے جبکہ ضلع صوابی کے سترہ (17) ارکان کے خلاف آئین کے مختلف شقوں کے ذریعے کارروائیاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکر دہ بیان کے مطابق پشاور کے جن عہدیداران یا کارکنوں کے خلاف معطلی کا اقدام اُٹھایا گیا ہے ان میں کامران صدیق ، محسن کامران ، عبدالرحیم ، ظاہر شاہ ، منظور خان ، اجمل خان ، عیسیٰ خان ، خان سید ، عمر حیات ، میاں مزمل شاہ ، ظہیر گل اور ریاض ماشو گگر شامل ہیں۔ ان ارکان کی رکنیت ایک ایک سال کیلئے معطل کی گئی ہے۔
دوسری طرف ضلع صوابی میں یونین کونسل سلیم خان کے کچکول خان ، اختر حسین ، ثواب گل ، بخت افسر ، اسلم خان اور فضل الہٰی، صوابی خاص کے جاوید خان ، مانیری پایاں کے جہانزیب خان کی رکنیت ایک سال کیلئے معطل کی گئی جبکہ مانیری پایاں کے راز محمد اور نثار پختون یار کی رکنیت چھ چھ ماہ کیلئے معطل کی گئی۔ لاہور غربی کے مختیار خان کی رکنیت بھی چھ ماہ کیلئے معطل کی گئی۔ سابق ایم پی اے سکندر عرفان کی معطلی بھی ایک سال کیلئے عمل میں لائی گئی ہے ۔ اسی طرح زیدہ کی تنظیم توڑ دی گئی ہے۔ علاقہ انبار کے سعید خان اور رحیم شیر کی رکنیت چھ چھ ماہ کیلئے معطل کی گئی جبکہ انبار کی تنظیم بھی توڑ دی گئی۔یونین کونسل مانیری بالا کے مظفر خان اور جلال خان کی پارٹی رکنیت مکمل طور پر ختم کی گئی ہے ۔
بیان کے مطابق ان تمام افراد کے خلاف تحقیقاتی کمیٹیوں کی سفارشات اور کابینہ کے متفقہ فیصلے کی روشنی میں کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔