مورخہ 18فروری 2016ء بروز جمعرات

ٹیچنگ اسسٹنٹس کے خلاف ایف آئی آرز ’’ عمرانی روئیے‘‘ کا ثبوت ہے، سردار حسین بابک
حکمران بوکھلاہٹ کا شکار ہیں جبکہ اسی بوکھلاہٹ میں وہ عوام کے جائز مسائل کا ادراک نہیں کر پا رہے
جائز مطالبات کیلئے احتجاج کرنے والوں کو جبر کے ذریعے روکنا ہمارے معاشرے کے شایان شان نہیں
حکومت کو ایف آئی آرز واپس لے کر ملازمین کے ساتھ مل بیٹھ کر ان کے جائز مطالبات کا حل نکالنا چاہئے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری وپارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے ٹیچنگ اسسٹنٹس کے خلاف حکومت کے عمرانی اور جبری روئے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبات کیلئے احتجاج کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آرز کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ ٹیچنگ اسسٹنٹس اپنے جائز مطالبات کیلئے گزشتہ 3دن سے احتجاج پر ہیں لیکن حکمرانوں نے ان کے مسائل پر توجہ دینے کی بجائے ان کے خلاف ایف آئی آرز کاٹ دی ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا رویہ افسوسناک ہے اور حکمران بوکھلاہٹ کا شکار ہیں جبکہ اسی بوکھلاہٹ میں وہ عوام کے جائز مسائل کا ادراک نہیں کر پا رہے، سردار حسین بابک نے کہا کہ حکومت نے آمرانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے اور جبر کے ذریعے لوگوں کو دبایا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا عمرانی رویہ عوام کے مسائل کا حل نہیں ،اور کالج اساتذہ کے خلاف ایف آئی آرز جمہوری معاشرے میں زیب نہیں دیتا ،انہون نے کہا کہ ایٹا کے ذریعے 850افراد کو بھرتی کیا گیا لیکن حکومت اب امتیازی اور غیر انسانی سلوک پر اتر آئی ہے، سردار حسین بابک نے کہا کہ معماران قوم کو ہراساں کرنے اور اپنے جائز مطالبات کیلئے احتجاج کرنے والوں کو جبر کے ذریعے روکنا ہمارے معاشرے اور ہماری روایات کے شایان شان نہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایف آئی آرز واپس لے کر ملازمین کے ساتھ مل بیٹھ کر ان کے جائز مطالبات کا حل نکالنا چاہئے۔