مورخہ : 12.3.2016 بروز ہفتہ

موجودہ حکومت کو عوام کے تحفظ ، انتہا پسندی کے خاتمے اور تعلیم کے فروغ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ امیر حیدر خان ہوتی
ہم نے تعلیم کے فروغ اور عام شہریوں کی اس تک رسائی کیلئے دیگر اقدامات کے علاوہ صوبے میں تعلیمی اداروں کا جال بچھایا۔
تعلیمی اداروں کو اپنی سیکیورٹی کا ذمہ دار قرار دینا اور ان کے فنڈز میں بندش یا کٹوتی حکومتی رویے تشویشناک ہیں۔
امن کا قیام اور انتہا پسندی کا خاتمہ تعلیم کے بغیر ناممکن ہے۔ ٹکر مردان میں منعقدہ تقریب سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ جنگ زدہ صوبے کے موجودہ حکمرانوں نے یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کی ذمہ داری اساتذہ پر ڈالنے اور فنڈز کی بندش، کٹوتی جیسے رویوں کے باعث ثابت کر دیا ہے کہ ان کو امن کے قیام ، عوام کی سیکیورٹی اور تعلیم کے فروغ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے حالانکہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بعض باجرأت فیصلوں کے علاوہ تعلیم کا فروغ انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
وہ گورنمنٹ ہائی سکول ٹکر مردان میں ملگری اُستاذان کے رہنما حفظ الرحمان کی ریٹائرمنٹ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس سے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ، ضلعی ناظم حمایت اللہ مایار اور امجد علی ترکئی نے بھی خطاب کیا۔
امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تعلیمی اداروں کے فنڈز کی بندش کٹوتی اور سیکیورٹی کی ذمہ داری ان پر ڈالنے جیسے اقدامات سے عملاً ثابت کیا ہے کہ یہ تعلیم دُشمن اور امن مخالف رویے پر گامزن ہیں ورنہ عوام سمیت تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی اور سہولیات کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے مستقل خاتمے کیلئے تعلیم کا فروغ انتہائی لازمی ہے تاہم موجودہ حکمرانوں کو اس ضرورت کا ادراک نہیں ہو رہا اور ان کی پالیسیوں کے باعث عوام کے علاوہ اساتذہ ، طلباء اور والدین کو شدید تشویش کا سامنا ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے اس ضرورت کے پیش نظر اپنی حکومت میں ریکارڈ یونیورسٹیوں کالجز اور سکولوں کا جال بچھایا ۔ اس کے علاوہ ہم نے اساتذہ کی سروس سٹرکچر اپ گریڈیشن ، پروموشن اور چار درجاتی فارمولہ کے نٖفاذ جیسے اقدامات کے علاوہ ستوری د پختونخوا ، نوے سحر ، روخانہ پختونخوا سمیت ایسے پروگرامز شروع کیے جن کے ذریعے صوبے میں تعلیمی انقلاب کی راہ ہموار ہوئی اور سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہوا۔ اس ضرورت کے تناظر میں ہماری حکومت نے اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیت بڑھانے ، ان کے مراعات میں اضافے تربیت اور دیگر سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی تاکہ عام اور غریب طلباء اور طالبات کیلئے تعلیم کا حصول ممکن بنایا جا سکے اور معاشرے میں امن کی ضرورت کو تعلیم کے ذریعے پورا کیا جاسکے۔
اُنہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ حکمران تعلیم سمیت اپنے دیگر فرائض سے غفلت پر عمل پیرا ہیں جس کے باعث صوبے کے عوام بیورو کریسی اور اساتذہ سمیت دیگر طبقوں میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے اور ان پر واضح ہوچکا ہے کہ حکومت کو صوبے کے حالات اور مشکلات کا کوئی احساس اور ادراک نہیں ہے۔