مورخہ 9فروری 2016ء بروزمنگل

ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم سے نمٹنے کیلئے حکومت کی کوئی صف بندی نظر نہیں آ رہی۔ سردارحسین بابک
امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے باعث معاشرے کے نمائندہ لوگوں اور عوام میں بد ترین عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔
صوبے کا کوئی طبقہ ، مسلک یا شعبہ ٹارگٹ کلنگ سے محفوظ نہیں۔ لوگ صوبہ چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

پشاور ( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے پشاور سمیت صوبہ بھر میں ٹارگٹ کلنگ اور لاقانونیت کے بڑھتے ہوئے واقعات پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے روایتی سستی اور نا اہلی پر مبنی اپنا رویہ جاری رکھا تو عوام اپنی حفاظت کیلئے دوسرے راستے اپنانے پر مجبور ہوں گے۔
پشاور کے ممتاز تاجر حاجی حلیم جان کے دن دھاڑے قتل پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ دہشتگردی کا شکار صوبہ گزشتہ کچھ عرصہ سے بدترین ٹارگٹ کلنگ کی لپیٹ میں ہے اور آئے دن مختلف طبقات کے نمائندہ لوگوں کو کھلے عام نشانہ بنانے کے سلسلے نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے ۔تاہم حکومت کی کوئی صف بندی نظر نہیں آ رہی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام کے علاوہ اہم شخصیات کی تشویش میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے اور معاشرے کے اہم لوگ صوبہ چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ اگر ٹارگٹ کلنگ اور لاقانونیت کا سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو جنگ زدہ صوبے کے حالات میں مزید ابتری واقع ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کا کوئی بھی طبقہ ، مسلک ، یا شعبہ ٹارگٹ کلنگ سے محفوظ نہیں ہے جبکہ تعلیمی اداروں کے متعلقہ لوگ ، ڈاکٹرز ، سرکاری ملازمین اور تاجر بھی بدترین عدم تحفظ کا شکار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ صوبے کے معاشرتی اور معاشی حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت کے پاس اس تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کا کوئی طریقہ کار یا عزم نہیں ہے۔