مورخہ : 11 مئی 2016 بروز بدھ

ویلج اور نیبر ہوڈ کونسلوں سے فنڈز کی واپسی بلدیاتی نمائندوں کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔ گلزار حسین بابک
بلدیاتی نمائندوں پر عوام نے جو اعتماد کیا ہے صوبائی حکومت اُسے تسلیم کرے۔
صوبائی حکومت اپنے ہی بلدیاتی نظام کو ناکام بنانے کے درپے ہے۔

پشاور ( پریس ریلیز) تحصیل ناظم خدو خیل گلزار حسین بابک نے کہا ہے کہ ویلج اور نیبر ہوڈ کونسل چئیرمین سے فنڈز کی واپسی بلدیاتی نمائندوں کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔ یہ بات اُنہوں نے آج خدو خیل کے تمام کونسلرز اور ویلیج چیئرمینوں کے احتجاجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس اے این پی کے رہنما اور ویلج کونسل ڈاگئی کے چئیرمین پیر زادہ کے حجرے میں منعقد ہوا۔ اجلاس سے دوسروں کے علاوہ تحصیل خدوخیل کے نائب ناظم فضل الہٰی، محمد خان ، یونس خان ، پیرزادہ اور شیر ولی نے بھی خطاب کیا۔
اجلاس میں متفقہ طور پر صوبائی حکومت کے اس غیر جمہوری اور نامنصفانہ فیصلے کے خلاف قرار داد پاس کی اور کہا کہ بلدیاتی نمائندوں پر عوام نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ صوبائی حکومت کو عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ پچھلے دس مہینوں سے صوبے کے طول و عرض میں بلدیاتی نمائندے فنڈز اور اختیارات نہ ملنے کے خلاف احتجاج پر ہیں۔ لیکن صوبائی حکومت اپنے ہی بنائے ہوئے اسمبلی قوانین کی خلاف ورزی پر تلی ہوئی ہے اور اپنے ہی بلدیاتی نظام کو ناکام بنانے کے درپے ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور کھلے دل سے صوبے کے طول و عرض میں سیاسی وابستگی سے بالا تر بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات اور فنڈز کو صوبے کے عظیم تر مفاد میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہنا چاہئے اور عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے عوامی نمائندوں کو کام کرنے دے دیا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ ان کے لیڈر عمران خان دوسرے صوبوں میں جاکر صوبے کے بلدیاتی نظام اور نچلی سطح پر اختیارات تفویض کرنے کی مثالیں دے رہے ہیں جبکہ حقیقتاً صوبے کے تمام بلدیاتی نمائندے بشمول پی ٹی آئی ، جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کے صوبائی حکومت کے اس ناروا اور غیر جمہوری طریقے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام کا بلدیاتی نمائندوں سے توقعات وابستہ ہیں اور اپنے مسائل اپنے ان منتخب نمائندوں کے ذریعے حل کیلئے منتظر ہیں لیکن صوبائی حکومت دانستہ طور پر عوام کی نظروں میں بلدیاتی منتخب نمائندوں کی حیثیت اور اہمیت کو کمزور بنانا چاہتی ہے۔