مورخہ : 3.4.2016 بروز اتوار

وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کو صرف پنجاب کے مفادات اور اپنی کرسی کی فکر ہے۔ میاں افتخار حسین
تمام شدت پسند تنظیموں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیوں کے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔
شدت پسندی کے خاتمے اور صوبوں کے حقوق کے تحفظ میں وفاقی حکومت سنجیدہ نظر نہیں آرہی۔ وفود اور کارکنوں سے بات چیت

پشاور( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ تب تک ممکن نہیں ہے جب تک عام ریاستی اداروں کی مکمل ہم آہنگی اور قومی اتفاق رائے کے ذریعے تمام شدت پسند تنظیموں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی نہیں کی جاتی اور ان کے نظریاتی مراکز کا خاتمہ یقینی نہیں بنایا جاتا۔
باچا خان مرکز میں مختلف وفود اور اپنے حلقے کے معززین ، پارٹی کارکنوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اگر آپریشن ضرب غضب اور نیشنل ایکشن پلان کا دائرہ صرف فاٹا یا صوبہ پختونخوا تک محدود نہیں رکھا جاتا اور قومی اتفاق رائے سے پنجاب سمیت پورے ملک میں بلا امتیاز ٹارگٹڈ کارروائیاں کی جاتیں تو اب تک اُس کے بہت مثبت نتائج سامنے آئے ہوتے اور رواں برس کے دوران نصف درجن کے قریب دہشتگرد کارروائیوں اور جانی نقصانات کا راستہ بھی روک دیا جاتا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف پاکستان کو اندرونی سطح پر خلفشار اور بدامنی کا سامنا ہے تو دوسری طرف یہ عالمی دباؤ اور بعض غیر ملکی قوتوں کی مبینہ مداخلت کا بھی شکار ہے تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ قومی اور ریاستی سطح پر سنجیدگی اور اتفاق رائے کا فقدان نظر آرہا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ حالات کو اطمینان بخش اور مستقبل کو محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اُنہوں نے کہا کہ مرکز اگر ایک طرف شدت پسندی کے بنیادی مسئلے پر مصلحت کا شکار رہا ہے تودوسری طرف صوبوں کے خدشات اور مطالبات کے حل میں بھی وفاقی حکومت کوئی سنجیدہ اقدام اُٹھاتی نظر نہیں آ رہی ۔ مردم شماری میں غیر معمولی تاخیر فاٹا کی تعمیر نو سے لاتعلقی ، مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں سی پیک کے مغربی روٹ کو قانونی تحفظ دینے سے گریز اور بعض دیگر اہم ایشوز سے لاتعلقی سے ثابت یہ ہو رہا ہے کہ وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کو صرف پنجاب اور اپنی کرسیوں کی فکر ہے اور ملکی مفادات یا ایشوز کی کوئی اہمت نہیں ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کو سنگین حالات کا سامنا ہے تاہم حکمرانوں کو اسی کا اندازہ یا ادراک نہیں ہے اور محسوس یہ ہو رہا ہے جیسے ملک واقعتاً غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے۔