مورخہ 29مارچ 2016ء بروز منگل
وزیر اعظم کے خطاب نے مایوس کیا ، وزیر داخلہ انتشار کو روکنے میں ناکام ہیں، سینیٹر زاہد خان
جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازشوں کی کڑیاں وزیر داخلہ سے بھی ملتی ہیں
دکھاوے کے آپریشن نہیں ،دہشت گردی کو روکنے کیلئے عملی اور نظر آنے والے اقدمات ضروری ہیں
لاہور دھماکہ نیشنل ایکشن پلان پر من وعن عمل نہ کرنے کا شناخسانہ ہے۔
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر زاہد خان نے وزیر اعظم نواز شریف کے قوم سے خطاب کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور میں دہشت گردی کے وحشیانہ واقعہ، اسلام آباد شاہراہ دستور پر قبضے اور کراچی میں میڈیا پر حملوں کے حوالے سے نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر سختی سے عمل کرنے کا واضح موقف قوم کے سامنے پیش کرنا چاہئے تھا۔ اپنے بیان میں زاہدخان نے کہا ہے کہ لاہور دھماکہ نیشنل ایکشن پلان پر من وعن عمل نہ کرنے کا شناخسانہ ہے۔ شاہراہ دستور پر عدالتی فیصلے کے خلاف دھرنا اور قبضہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔اے این پی کے مطالبے پر اب بھی عمل کیا جائے تو دہشت گردی کے واقعات میں کمی آ سکتی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ملک میں بڑھتے ہوئے انتشار کو روکنے میں ناکام ہیں اور دہشت گردی کے واقعات پر وزیر داخلہ کی خاموشی سے بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔جب تک دہشت گردانہ ذہنیت پیدا کرنے والوں دہشت گرد پیدا کرنے والی ذہنی تربیت گاہوں کو ختم نہیں کیا جاتا اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں ،مددگاروں اور سرپرستوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جائیگا دہشت گردی روکنا مشکل ہے۔دہشت گردی کو جڑ سے ا کھاڑنے کیلئے دکھاوے کے آپریشن نہیں بلکہ عملی اور نظر آنے والے اقدمات ضروری ہیں۔سینیٹر زاہد خان نے کہا ہے کہ میڈیا کو اظہار ائے سے روکنے والوں کے خلاف بھی وزیر داخلہ کی خاموشی اس بات کی گواہی ہے کہ جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازشوں کی کڑیاں وزیر داخلہ سے بھی ملتی ہیں۔زاہد خان نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے ادارے اورحکومت یکسو ہو کر دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے سخت ترین اقدامات اٹھائیں۔