anp pic 15.2.2016

مورخہ : 15.2.2016 بروز پیر

وزیر اعظم پاکستان کا ابھی تک باچاخان یونیورسٹی کا دورہ نہ کرنا لمحہ فکریہ ہے۔ میاں افتخار حسین
نیشنل ایکشن پلان پر نظرثانی کی ضرورت ہے ، تاکہ دہشت گردی کا راستہ صحیح معنوں میں روکا جائے۔
مرکزی ، صوبائی حکومت اور ہائرایجوکیشن کمیشن باچاخان یونیورسٹی کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کریں۔

پشاور(پ،ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کا ابھی تک باچاخان یونیورسٹی کا دورہ نہ کرنا لمحہ فکریہ ہے ، جس سے یونیورسٹی کے طلبہ اور انتظامیہ سمیت صوبے کے عوام میں سخت مایوسی پائی جاتی ہے ، لہذا وزیراعظم کو چاہیے کہ جلد ازجلد یونیورسٹی کا دورہ کرکے اس کے لیے ایک مکمل پیکج کا اعلان کریں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچاخان یونیورسٹی کے د وبارہ کھل جانے کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں سست روی سے دہشت گرد دوبارہ منظم ہورہے ہیں، اور دہشت گردی میں اضافہ ہورہاہے،اس لیے نیشنل ایکشن پلان پر نظرثانی کی ضرورت ہے ، تاکہ دہشت گردی کا راستہ صحیح معنوں میں روکا جائے، انہوں نے کہا کہ جس طرح نیشنل ایکشن پلان بنانے کے لیے وزیراعظم نے فوری اور خصوصی اجلاس طلب کیا تھا ،اب اس پر نظرثانی، اور اس کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس بلانا انتہائی ضروری ہے، تاکہ اس حوالے پایا جانے والا ابہام دور ہوسکے، انہوں نے کہا اب یہ ایک مائنڈ سیٹ کی جنگ ہے اور دنیا کی تمام امن پسند قوتوں کو چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہونے والی قوتوں کا ساتھ دیں،انہوں نے کہا کہ امن دشمن قوتوں کو مات دینے میں مذید تاخیر اور غفلت بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک سکول پر حملہ عسکری قیادت کی جانب سے دہشت گرددوں کے خلاف آپریشن کا نتیجہ اور باچاخان یونیورسٹی پر حملہ اس لیے کیا گیا کہ ان کے پیروکار عدم تشدد کے خلاف اور امن کے داعی اور دہشت گردی کے خلاف ہیں،انہوں نے کہا آرمی پبلک سکول کے سانحہ کے بعد تمام سیاسی،مذہبی اور عسکری قیادت ایک ہوگئی تھی، اور وہ درد اور تکلیف ناقابل فراموش ہے، جس نے پوری قوم کو متحد کیا تھا اور ملکی سطح پر ایک قومی احساس پیدا ہوا تھا کہ آئندہ اس قسم کے سانحے کا سختی سے نوٹس لیاجائے گا، تاہم افسوس کہ مرکزی حکومت اور خصوصاً وزیراعظم پاکستان کی جانب سے باچاخان یونیورسٹی پر ہونے والے اتنے بڑے حملے کااسی طرح نوٹس نہیں لیاجارہاہے جس قدر اس کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ صوبے کے تاریخی مقامات اور تعلیمی اداروں کو یونیورسٹی میں شہید ہونے والوں کے نام منسوب کیے جائیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی،صوبائی حکومتوں اور ہائرایجوکیشن کمیشن کو باچاخان یونیورسٹی کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کریں، انہوں میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ باچاخان یونیورسٹی کواس نے بہت زیادہ اہمیت دی مگر افسوس کہ مرکزی،صوبائی حکومت اور ہائرایجوکیشن کمیشن نے کوئی اہمیت نہیں دی،انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جرات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کو دوبارہ کھول کر طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچ گیا اور دہشت گردوں کو پیغام دیا گیا کہ پختون بچوں کے ہاتھ سے قلم و کتاب چھیننے کا خواب پورا نہیں ہونے دیا جائے گا۔