مورخہ : یکم جنوری 2016 ء بروز جمعہ

* نیشنل ایکشن پلان کا دائرہ بڑھایا جائے ۔کاریڈور کے ساتھ خطے کا امن مشروط ہے ’ میاں افتخار حسین‘
* داعش کی شکل میں اب ایک نیا خطرہ خطے پر منڈلانے لگا ہے حالات اطمینان بخش نہیں ہیں، نوشہرہ میں خطاب

پشاور(پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ خطے کا امن اور استحکام کاریڈور پر تمام صوبوں کے اتفاق رائے اور مغربی روٹ پر کام کی رفتار تیز کرنے کے عمل سے مشروط ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اے پی سی کے فیصلے کے مطابق اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔
نوشرہ کینٹ میں پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی اور دیگر پارٹیوں کے عہدیداروں اور نو منتخب عوامی نمائندوں کی شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ کاریڈور ، نیشنل ایکشن پلان اور خارجہ پالیسی پر اے این پی کا موقف بالکل واضح ہے اور ہمارے درست موقف کو وقت اور حالات نے بھی حقائق پر مبنی قرار دے دیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ خطے کو دہشتگردی نے بدترین اقتصادی ، جانی اور معاشرتی نقصان سے دوچار کیا ہے اور حالات اب بھی کافی خطر ناک ہیں کیونکہ اب داعش کی شکل میں ایک نئی مصیبت سامنے آگئی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے لازمی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کا دائرہ پورے ملک تک پھیلا یا جائے اور کسی سے بھی رعایت نہ کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازمی ہے کہ کاریڈور کے مغربی روٹ کے ذریعے فاٹا ، پختونخوا اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ اور پر امن بنایا جائے تاکہ ان علاقوں کو مین سٹریم میں لایا جائے اور کاریڈور کے فوائد سے ان کو مستفید ہونے دیا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت متعدد قومی ایشوز پر ابہام ،خوف اور مصلحت کا شکار ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام بدظن ہو گئے ہیں اور حکومت پر ان کا اعتماد اُٹھنے لگا ہے۔
اس موقع پر نومنتخب بلدیاتی نمائندوں اسماعیل ، سٹیفن غوری کے علاوہ افضل خان ، شاہ نظر ،مشتاق دُرانی اور شاہ نظر خان نے سینکڑوں دیگر کے ہمراہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت اختیار کی۔ میاں افتخار حسین اور پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے اُن کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور ان کا خیر مقدم کیا۔