MardanKhaas

مورخہ : 19.2.2016 بروز جمعہ

نیب کو فعال اور غیر جانبدار بنانے کیلئے پارلیمنٹ کے ذریعے ترامیم لائی جائیں۔ حیدر خان ہوتی
صوبائی احتساب کمیشن سیاسی مخالفین کو استعمال کرنے کیلئے قائم کیا گیا ہے۔ شفافیت اور غیر جانبداری لازمی ہے۔
کمیشن کے مستعفی سربراہ کے بیانات نے صوبائی حکومت کے دعوے بے نقاب کر دئیے ہیں۔ مردان میں شمولیتی اجتماع سے خطاب

پشاور( پ ۔ ر )اے این پی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے قومی احتساب بیوروکے قانون میں سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ترامیمی بل پارلیمنٹ میں لانے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ماضی میں نیب سیاسی جماعتوں کے جوڑ توڑ اور کنگ پارٹی بنانے میں استعمال ہوتارہا۔نیب کے غلط استعمال روکنے اور غیر جانبدارانہ ،شفاف اور بلاامتیاز احتساب کے لئے قوانین میں بہتری لانا وقت کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت کا احتساب کمیشن سیاسی مخالفین کو دبانے کے لئے بنایاگیا ،غلط استعمال کی گواہی وزیراعلیٰ دے چکے ہیں وہ جمعہ کی شام اپنے حلقہ نیابت کے علاقہ مردان خاص میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس میں جاوید خان ،حق داد ، احمد علی شاہ ،نعیم خان نے درجنوں ساتھیوں سمیت تحریک انصاف سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پارٹی کے صوبائی صدر نے نئے شامل ہونے والوں کو ٹوپیا ں پہنائیں اورانہیں مبارک باددی۔ امیرحیدرخان ہوتی کاکہناتھاکہ سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں سیاسی پارٹیوں کے جوڑ توڑ اور کنگ پارٹی بنانے میں نیب کو استعمال کیاگیا ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم میاں نوازشریف نے نیب کے حوالے سے جو نکات اٹھائے ہیں نیب کا وضاحتی بیان اس قانون میں خامیوں کی نشان دہی کرتی ہے۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ نیب کے قوانین میں بہتری لانے او رشفاف احتساب کے لئے سیاسی پارٹیوں کی مشاورت سے ترامیم پارلیمنٹ میں لائے جائیں۔ انہوں نے صوبائی احتساب کمیشن کے حوالے سے کہاکہ ہمارا روزاول سے موقف تھاکہ صوبائی احتساب کمیشن مخالف سیاسی جماعتوں کے لئے بنایاگیاہے اوروقت نے ہمارے موقف کو درست ثابت کردیاہے۔ اب صوبائی حکومت خود تسلیم کررہی ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہواہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت اپنی پاک دامنی کے بڑے دعوے کرتی رہی لیکن مستعفی ہونے والے ڈی جی نے صوبائی حکومت کی کرپشن کے حوالے سے ثبوت اور گواہی دی ہے جس سے ان کی آنکھیں کھولنی چاہئے۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت کے ڈھائی سالہ دور میں کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیاگیا بلکہ ہمارے دور حکومت کے ترقیاتی منصوبے تعطل کے شکارہیں۔ انہوں نے کہاکہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بارترقیاتی بجٹ میں 77ارب سے زائد کٹوتی لمحہ فکریہ ہے اوریہ موجودہ حکومت کی ناکام پالیسوں کا نتیجہ ہے جس کامنفی اثر صوبے کی ترقی پر پڑے گا ۔اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ ان کے دور میں بدترین دہشت گردی اور سیلاب جیسے آزمائشوں میں بھی صوبے کے ترقیاتی بجٹ پر اس قدر کٹ نہیں لگاتھا۔ ہمارے دورمیں مساجد اور مدارس ،کالجز اوریونیورسٹیاں تعمیر ہورہی تھیں جبکہ موجودہ دور میں اعلیٰ تعلیمی ادارے بند کئے جارہے ہیں جو پختون قوم کے خلاف سازش ہے۔ انہوں نے کہاکہ وقت آگیاہے کہ پختون قوم اچھے برے میں تمیز کریں ہماری سیاست اقتدار کی کرسی نہیں بلکہ پختون قوم کو مصائب او رمشکلات سے نکالنا ہے اور اس خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرناہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ چترال سے ڈیرہ تک پختون قوم کو سرخ جھنڈے تلے اکٹھاکرنے کے لئے نکلے ہیں اور پختون قوم میں سیاسی بیداری کے لئے خون کے آخری قطرے تک جدوجہد جاری رکھوں گا قبل ازیں حیدر خان ہوتی جلسہ گاہ پہنچے تو ان کا پرتباک استقبال کیاگیا ۔