مورخہ 15فروری2016ء بروز پیر
نوجوان دہشت گردی اور انتہا پسندی کو علم سے شکست دینگے، سنگین خان ایڈوکیٹ
پختون من حیث القوم ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہیں، باچا خان یونیورسٹی میں میڈیا سے بات چیت
پشاور ( پ ر ) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ اور صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری سمیت دیگر تمام کابینہ ارکان نے آج باچا خان یونیورسٹی کا دورہ کیا اور سانحہ 20جنوری کے بعد یونیورسٹی آنے والے طلباء اور طالبات کو خوش آمدید کہاجبکہ اس موقع پر طلباء و طالبات پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں ، تنظیم کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کے بعد یونیورسٹی کھلنے کے پہلے روز ہی کثیر تعداد میں طلباء کی آمد اس بات کی دلیل ہے کہ پختون من حیث القوم ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہیں اور پختونوں کو بندوق نہیں بلکہ قلم اور کتاب کی ضرورت ہے یہی نوجوان دہشت گردی اور انتہا پسندی کو علم سے شکست دینگے ۔ انہوں نے کہا کہ باچا خان یونیورسٹی پر حملہ نہ صرف یونیورسٹی بلکہ باچا خان کی سوچ اور فکر پر حملہ تھا لیکن آج طلباء و طالبات اور انتظامیہ کے حوصلے اور جذبے سے یہ بات عیاں ہے کہ ہم ہر قسم کی دہشت گردی ور انتہا پسندی کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹے رہیں گے ۔ سنگین خان نے تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ رپورٹ سراسر بدنیتی پر مبنی ہے ،اساتذہ اور وی سی کی ذمہ داری طلباے کو علم کی روشنی سے منور کرنا ہے ، سیکورٹی اور تحفظ کی ذمہ داری ریاست اور ریاستی اداروں کا کام ہے لیکن تبدیلی کے دعویدار صوبائی حکومت بجائے اس کے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لائے ان کو یونیورسٹی میں بابائے امن پختونوں کے عظیم رہنما باچا خان کے پورٹریٹ پر اعتراض ہے انہوں نے خبر دار کیا کہ اگر ایسی کسی قسم کی ناکام کوشش کی گئی تو اے این پی کے ورکر بھرپور جواب دینگے۔اس موقع پر اے این پی کی رہنما شازیہ اورنگزیب ،این وائی او کے صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری ،ثناء اعجاز ، گلزار خان ، پلوشہ بشیر مٹہ، ثناء گلزار ،این وائی او چارسدہ کے ضلعی صدر میاں رحم باچا ، تحصیل ناظم خلیل بشیر عمر زئی اور یوتھ چارسدہ کے نوجوان کثیر تعداد میں موجود تھے ۔وفد نے بعد ازاں وائس چانسلر اور یونیورسٹی اساتذہ کو بھی گلدستے پیش کئے اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔