مورخہ 20مارچ 2016ء بروز اتوار
نوازشریف نے کرسی بچانے کے لئے پرویز مشرف کو باہر جانے کی اجازت دے کر عوامی مینڈیٹ کی توہین کی، امیر حیدر خان ہوتی
آئین توڑنے والے کو بخوشی ملک سے نکال دیا گیا اور کپتان غیر آئینی اقدام پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں
کرسی بچانے والے اور وزیراعظم کے خواب دیکھنے والے یادرکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے اور ایک بڑی عدالت اور بھی ہے خیبرپختون خوا کے عوام چکی کے دوپاٹوں میں پس رہے ہیں نوازشریف انہیں مینڈیٹ نہ دینے اور عمران خان وزیر اعظم بننے کے چکر میں پنجاب کے طواف میں لگے ہیں
ا قتدار میں آکر دوبارہ ترقیاتی عمل شروع کریں گے، مردان کے علاقہ ڈاگئی میں شمولیتی اجتماع سے خطاب
پشاور(پ ر) اے این پی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ پرویز مشرف کی ملک سے باعزت روانگی نے ثابت کردیاہے کہ ملک میں امیراورغریب کے لئے الگ قانون ہے نوازشریف نے کرسی بچانے کے لئے پرویز مشرف کو باہر جانے کی اجازت دے کر عوامی مینڈیٹ کی توہین کی ، انتخابی دھاندلی پر مہینوں دھرنے دینے والے کپتان نے سابق آمرکے باہر جانے پر کیوں چپ سادھ لی ہے وہ مردان کے علاقہ ڈاگئی کے عبدالستار کلے میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس کی صدارت یوسی کے صدر اور ضلع کونسل ممبر مختیار لالا نے کی جلسے سے پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان اور سابق ناظم سہراب آکاخیل نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر حاجی نصیر خان،زربادشاہ،قیسم خان اورامیرنواس کاکا نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت مختلف پارٹیوں سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت اختیا رکرلی، امیرحیدرخان ہوتی نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارک باددی اے این پی کے صوبائی صدر نے سوال اٹھایاکہ میاں نوازشریف کو کس نے جنرل مشرف پر آرٹیکل 6لگانے پر مجبور کیاتھاآج تو ایک سابق آمر جس نے آئین توڑااورججوں کو قید کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر کئی غیر آئینی اقدامات کئے کو بخوشی رخصت کردیاگیا لیکن کرسی بچانے والے اور وزیراعظم کے خواب دیکھنے والے یادرکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے اور ایک بڑی عدالت اور بھی ہے انہوں نے کہاکہ خیبرپختون خوا کے عوام چکی کے دوپاٹوں میں پس رہے ہیں نوازشریف انہیں مینڈیٹ نہ دینے کی سزا دے رہے ہیں جبکہ عمران خان نے وزیراعظم بننے کے چکر میں پنجاب کی طرف منہ موڑ لیاہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس کوئی اختیا رنہیں ،خزانے کی چابیاں بنی گالہ میں پڑی ہیں ،بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی سے کچھ اضلا ع واپس لئے 2018میں پورا خیبرپختون خوا واپس لے کردم لیں گے، انہوں نے کہاکہ پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے واضح پالیسی ہے کوئی یہ سمجھے کہ ٹکٹ میری جیب میں پڑے ہیں ٹکٹوں کا اختیار تنظیموں اور کارکنوں کے پاس ہوگا انہوں نے کہاکہ موجودہ حکمران صوبے کی ترقی کے حوالے سے ادھرادھرچھپنے کی بجائے ہمارے دورکے ادھورے منصوبوں کے لئے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائیں کیونکہ مردان کے ڈسٹرکٹ ہسپتال ،چلڈرن ہسپتال اور باچاخان میڈیکل کالج کے تعمیراتی منصوبے جو گذشتہ سال مکمل ہونے تھے کو ادھورا چھوڑ کر ان کے فنڈزروک دیئے گئے انہوں نے کہاکہ وہ انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتے اور اقتدار میں آکر دوبارہ ترقیاتی عمل شروع کریں گے، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ 2017تک ڈیر ہ اسماعیل خان سے چترال تک پارٹی تنظیموں کو فعال اورمنظم کیاجائے گا عہدے ان لوگوں کو حق ہے جو خدمت پر یقین رکھتے ہیں انہوں نے کہاکہ اے این پی کی منزل اقتدار نہیں بلکہ پختون قوم کی بے لوث خدمت اورانہیں مسائل اور مصائب سے نکالناہے ۔