مورخہ 29مئی2016ء بروز اتوار
نااہل حکمرانوں کاخزانہ خالی ہوچکاہے اور 73ارب کے خسارے کا سامناہے،امیر حیدر خان ہوتی
سرکاری آفیسران ،ڈاکٹرز ،اساتذہ اورمیونسپل ملازمین سمیت ہر مکتبہ فکر کے افراد ہڑتالوں اور جلوس پر مجبورہیں
عمران خان وزیراعظم بننے کے لئے پنجاب کی سیاست کررہے ہیں جبکہ میاں نوازشریف اپنی کرسی بچانے میں لگے ہیں
پختون ٹی وی سکرینوں کے کاغذی لیڈروں کی حقیقت جان چکے ہیں، سکندری میں شمولیتی اجتماع سے خطاب

پشاور ( پ ر ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ تبدیلی والے سکھ کی بانسری بجارہے ہیں کسی کو پختون قوم کے مسائل اور مصائب کی فکر نہیں،عجیب حکومت ہے سرکار ی آفیسران سمیت ہرمکتبہ فکر کے افراد ہڑتال اورجلوسوں پر ہیں ، ،مہنگائی ،لوڈشیڈنگ اور بے روزگاری نے غریب عوام کا جینا حرام کردیاہے، 2018ء اے این پی کا سال ہوگا اور کامیابی کی نوید پی کے 30کے صوبائی حلقے سے آئے گی ، مخالفین اے این پی کی مقبولیت سے خوف زدہ ہیں وہ اتوارکی شام مردان کے حلقہ پی کے 30کے علاقہ سکندری ہوتی میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کررہے تھے جس میں وسیم راز نے اپنے خاندان اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت مختلف پارٹیوں سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا پارٹی کے صوبائی صدر محمد جاوید یوسفزئی نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہا تبدیلی نام پر سادہ پختونوں کو دھوکہ دیاگیا ،تین سال میں انصاف اور میرٹ کے دعویدار نے نوجوانوں کو روزگارکی بجائے چوہوں کی شکار پر لگایا ان کاکہناتھاکہ نااہل حکمرانوں کاخزانہ خالی ہوچکاہے اور 73ارب کے خسارے کا سامناہے ہمارے دورمیں دہشت گردی اور سیلاب کے باوجود ایک روپے خسارہ نہیں ہواتھاانہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا اپنا آبائی ضلع نوشہرہ پسماندگی کا شکارہے اور وہاں کے لوگ بنیادی مسائل کے حل کے لئے ترس رہے ہیں عجیب حکومت ہے سرکاری آفیسران ،ڈاکٹرز ،اساتذہ اورمیونسپل ملازمین سمیت ہر مکتبہ فکر کے افراد ہڑتالوں اور جلوس پر مجبورہیں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ میاں نوازشریف جو آج کل بیمارہیں اللہ انہیں صحت دیں لیکن ان کے اور عمران خان کو خیبرپختون خوا کے غریب عوام کے مسائل سے کوئی سرورکار نہیں دونوں لیڈر مسلسل پختونوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیارکررکھی ہے لیکن جو لیڈر اورپارٹیاں پختونوں کی حیثیت نہیں مانتیں میں ان کی سیاست اور پارٹی کو سرے سے ماننے کو تیارنہیں انہوں نے کہاکہ کپتان ہر جگہ تبدیلی اور سکھ کی بانسری بجارہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ غریب عوام کو مہنگائی ،بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ نے تنگ کررکھاہے یہ ہماری دھرتی ہے اور اس کی خدمت ہم کریں گے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی کے دور حکومت میں ہرطرف ترقی کا دوردورہ تھا تبدیلی والوں کے دور میں ترقی کا پہیہ رک گیاہے اورتین سال گزرنے کے باوجود کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیاگیا انہوں نے کہاکہ عمران خان وزیراعظم بننے کے لئے پنجاب کی سیاست کررہے ہیں جبکہ میاں نوازشریف اپنی کرسی بچانے میں لگے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی ہماری پارٹی مقبولیت سے خائف ہوگئی ہے اور جہاں ہمارے جلسے منعقد ہوتے ہیں تو اس کے منتظمین کو پہلے لالچ اوردھمکیاں دی جارہی ہیں تاہم پختون قوم کسی کے گیڈر بھبکیوں میں آنے والے نہیں وہ ٹی وی سکرینوں کے کاغذی لیڈروں کی حقیقت جان چکے ہیں اوروہ اپنے ووٹ پرچی کی طاقت سے نام نہاد تبدیلی والوں سے بدلہ لیں گے انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان سے لے کر 2008تک صوبے میں صر ف 9یونیورسٹیاں تھیں جبکہ ہم نے اپنے دورحکومت میں دس یونیورسٹیاں قائم کرکے صوبے بھر میں علم کی روشنیاں بکھیر دیں امیرحیدرخان ہوتی نے کارکنوں کوہدایت کی کہ وہ پختون قوم کی یکجہتی اور اتحاد واتفاق کے لئے گھر گھر جاکر جرگے کریں اوران میں قوم پرستی کا جذبہ ابھارنے کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں انہوں نے کہاکہ پختونوں کی بیداری کی تحریک مردان سے شروع ہوچکی ہے اور 2018میں غیور پختون نام نہاد تبدیلی والوں سے بدلہ لے کر اختیارات بنی گالہ سے واپس پختون خوا منتقل کریں گے انہوں نے کہاکہ کامیابی کی پہلی نوید حلقہ پی کے 30سے آئے گی جو پورے صوبے میں پھیلے گی اور ایک بارپھر صوبے میں سرخ جھنڈے کی حکومت قائم ہوگی ۔