مورخہ : 19.2.2016 بروز جمعہ

مہمند ایجنسی اور بعض دیگر علاقوں میں حملوں کی شدت میں اضافہ تشویشناک ہے۔ میاں افتخار حسین
ابہام اور تذبذب پر مبنی رویوں اور پالیسیوں نے حملہ آورورں کو پھر سے متحد کرنے کا موقع فراہم کیا۔
وزیر ستان کے عارضی امن سے فائدہ نہیں اُٹھایا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک اورعوام کی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
حالیہ حملوں سے فورسز سمیت کوئی بھی طبقہ محفوظ نہیں ہے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک صفحے پر آنا ہوگا۔ مہمند ایجنسی کے حملوں کی مذمت

پشاور( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سابق صوبائی وزیر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشتگردی کی حالیہ لہر نے عوام کی تشویش اور بے چینی میں اضافے کے علاوہ حکومتی پالیسیوں کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دے رکھا ہے۔ پورے ملک کی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے تاہم نیشنل ایکشن پلان کے وہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے جس کی ملک کو ضرورت اور عوام کو توقع تھی۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں اُنہوں نے مہمند ایجنسی اور بعض دیگر علاقوں میں خاصہ داروں اور دیگر پر کیے گئے حملوں پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسلسل یہی کہتے آ رہے ہیں کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے وزیرستان کے عارضی امن سے فائدہ نہیں اُٹھایا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دہشتگرد پھر سے متحد ہو کر نکل آئے۔ وزیرستان کے آپریشن سے اتنا ضرور ہوا کہ ان کے ٹھکانے ختم ہوئے اور غیر ملکی نکل گئے۔ تاہم اس سلسلے کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت پورے ملک تک پھیلانے سے گریز کی پالیسی اپنائی گئی اور یہی وجہ ہے کہ اے پی ایس ، بڈ ھ بیر بیس اور باچا خان یونیورسٹی جیسے سانحات رونما ہوئے اور اب عوام ، تعلیمی اداروں ، تاجروں ، سول سوسائیٹی اور فورسز سمیت کوئی بھی ان حملوں سے محفوظ نہیں رہا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اس کی نوبت کیوں آنے دی گئی کہ کوئی بھی طبقہ حملوں سے مبریٰ نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ابہام ، تذبذب اور مصلحت پر مبنی رویوں نے شدت پسندوں کی قوت میں پھر سے اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے مقابلے میں انتہا پسند قوتیں بعض اختلافات کے باوجود دہشتگردی کے معاملے پر متفق ہیں۔ یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ یہ مائنڈ سیٹ کی لڑائی ہے اور جب تک تمام امن پسند قوتیں ، حکومتیں اور فورسزدہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام پر متفق نہیں ہو جاتیں تب تک عوام ، فورسز اور صاحب الرائے حلقوں پر حملے ہوتے رہیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ مزید انتظار یا مصلحت کی بجائے سب کو آگے آکر میدان عمل میں نکلنا پڑے گا۔ اُنہوں نے مہمند ایجنسی اور دیگر علاقوں میں شہید ہونے والے خاصہ داروں اور متعدد دوسروں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا اور یقین دہانی کرائی کے اے این پی تمام تر رکاوٹوں اور چیلینجز کے باوجود امن کے قیام کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔