مورخہ : 20.2.2016 بروز ہفتہ

موجودہ صوبائی حکومت پشتون دُشمن اور پشتو کش پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ اے این پی
اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں پشتو زبان کو اس کا جائز حق دلانے کیلئے تاریخ ساز اقدامات کیے۔
* پشتو کو لازمی قرار دیا گیا ، نصاب میں پشتون ہیروز کو جگہ دی ، لینگویجز پرموشن ایکٹ نافذ کیا، اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اور کلچر ڈیپارٹمنٹ قایم کی گئی۔
* موجودہ حکومت نے سابقہ حکومت کے تمام عملی اقدامات بدنیتی کی بنیاد پر واپس کیے اور زبان و ثقافت کیلئے مخصوص فنڈز غیر مفید کاموں میں صرف کیے۔
* کسی کو بھی پشتونوں اور پشتو کیساتھ زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر آج باچا خان مرکز پشاور میں شاندار تقریب کا اہتمام کیا جائیگا۔

پشاور( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی نے پشتو زبان ، نصاب ، ادب اور ثقافت سے متعلق موجودہ حکومت کی پالیسیوں اور رویوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دی جائیگی کہ وہ پشتونوں اور ان کی زبان و ثقافت کی حق تلفی کا راستہ اپنائیں اور اس عظیم زبان کیساتھ منفی رویہ اختیار کریں۔
مادری زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان میں پارٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ پارٹی نے ایک مسلسل جدوجہد کے ذریعے پشتو زبان کی ترقی پر توجہ دی اور اس پالیسی کا نتیجہ تھا کہ اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں پشتون کی ترویج کیلئے متعدد اہم اقدامات اُٹھائے۔ ترجمان کے مطابق پارٹی کے دور اقتدار میں لینگویجز پروموشن ایکٹ 2012 کا نفاذ کیا گیا۔ پشتو کو کلاس اول سے کلاس بارہ تک لازمی مضمون قرار دیا گیا۔ پشتون ہیروز اور تخلیق کاروں کے کارناموں اور خدمات کو نصاب میں شامل کرایا گیا۔صوبے کی زبانوں کی تحقیق کیلئے تحقیقی فنڈز قائم کیا گیا۔ پختونخوا مطالعاتی مرکز اور باچا خان چئیر کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جبکہ کلچر ڈیپارٹمنٹ کا باقاعدہ قیام بھی عمل میں لایا گیا۔
ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ وہ بنیادی اقدامات تھے جن کے باعث پشتو زبان کی ترقی کی راہیں کھل گئیں۔ اُنہوں نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید کہا کہ حکومت نے لینگویجز پروموشن ایکٹ کا نفاذ روک دیا اور پشتو اور دوسری مادری زبانوں کو لازمی مضمون کی حیثیت ختم کر ڈالی ۔ اس کے علاوہ موجودہ حکومت نے خطے اور دھرتی کی ثقافت کو پروان چڑھانے کیلئے مختص فنڈز کو غیر مفید اور غیر متعلقہ سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا اور لینگویجز اتھارٹی کے فنڈز روکنے سمیت پشتو زبان و ادب کی تحقیق کیلئے مختص فنڈز روک کر ایک پالیسی کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں سے شعبہ ہائے پشتو کی حوصلہ شکنی کا راستہ اختیار کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق موجودہ حکومت کی پشتون کش رویے کو صوبے کے قوم پرست حلقے ، ادباء تخلیق کار ، شعراء اور دیگر حلقے تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور یہ تمام لوگ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ موجودہ حکمران ایک پالیسی کے تحت اس عظیم زبان کے حقوق سلب کرنے پر تلے ہوئے ہیں تاہم ان کو ایسا کرنے کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جائیگی۔
ترجمان کے مطابق آج بروز اتوار باچا خان مرکز پشاور میں مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر ایک پروقار اور نمائندہ تقریب کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں صوبے اور فاٹا کے متعلقہ اور صاحب الرائے لوگ بھرپور شرکت کریں گے۔ اس تقریب کا اہتمام اے این پی باچا خان ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اور باچا خان ٹرسٹ ریسرچ سینٹر نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔ تین حصوں پر مشتمل اس تقریب میں عالمی دن کی مناسبت سے خطے کے سکالرز ، شعراء ، محقیقین اور گلوکار اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔