مورخہ : 6.2.2016 بروز ہفتہ

ممتاز قوم پرست رہنما شاعر اور ادیب اجمل خٹک کی چھٹی برسی آج بروز اتوار اکوڑہ خٹک میں منائی جائے گی۔
چھٹی برسی کے موقع پر اُن کے مزار پر قرآن خوانی ، اجتماع اور مشاعرے کا اہتمام کیا جائیگاجس میں سیاسی قائدین ، شعراء اور عوام شریک ہوں گے۔
مرحوم لیڈر 925 1 کو پیدا ہوئے جبکہ طویل سیاسی جدوجہد اور ادبی خدمات سرانجام دینے کے بعد 7 فروری 2010 کو وفات پا گئے۔
سیاسی جدوجہد کے علاوہ عوام کو ’’ دا أہ پاگل ووم ‘‘ اور ’’ د غیرت چغہ ‘‘ سمیت متعدد ادبی شاہ پارے بھی تخلیق کر کے دئیے۔ اے این پی کے مرکزی سربراہ ، ایم این اے اور سینیٹر بھی رہے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی صدر اور ممتاز قوم پرست شاعر ، ادیب اور صحافی محمد اجمل خٹک کی چھٹی برسی بروز اتوار دوپہر دو بجے اکوڑہ خٹک میں اُن کے مزار پر منائی جائے گی۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان کی چھٹی برسی کے موقع پر اکوڑہ خٹک میں واقع ان کے مزار پر ایک اجتماع کا انعقاد کیا جائیگا جس میں صوبہ بھر کے سیاسی کارکن ، شعراء اور ادیب شرکت کر کے مرحوم لیڈر کی جدوجہد اور خدمات کو خراج عقیدت پیش کرینگے۔ اجتماع میں دوسروں کے علاوہ اے این پی کے مرکزی اور صوبائی قائدین بھی شرکت کرینگے۔
اس موقع پر ان کے مزار پر قرآن خوانی کا اہتمام کیا جائیگا۔ اے این پی کے قائدین اور دیگر شرکاء مزار پر پھولوں کی چادر چڑحائیں گے جبکہ آخر میں مزار پر ایک پشتو مشاعرے کا اہتمام بھی کیا جائیگا۔ مشاعرے کے مہمان خصوصی اے این پی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی ہوں گے جبکہ ممتاز سکالر ڈاکٹر یار محمد مغموم مشاعرے کی صدارت کریں گے۔
اجمل خٹک 1925 کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے ، انتہائی کم عمری میں شاعری شروع کی جبکہ 1943 کے دوران زمانہ طالب العلمی ہی سے باچا خان کی خدائی خدمتگار تحریک سے وابستہ ہوئے۔ مرحوم لیڈر مختلف ادوار میں حکومتوں کے زیر عتاب رہے اور متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ریڈیو اور صحافت سے عملی طور پر وابستہ رہے اور دوسروں کے علاوہ مشہور اخبار ’’ بانگ حرم ‘‘ کے بھی ایڈیٹر رہے۔ ان کو جدید نظم کا بانی کہا جاتا ہے۔ وہ متعدد نثر اور شعری مجموعوں کے خالق رہے جن میں ’’ نثری مجموعے ‘‘ ، ’’ دا زہ پاگل ووم ‘‘ اور شعری مجموعے ’’ د غیرت چغہ ‘‘ کو شہرہ آفاق شہرت حاصل ہے۔ وہ اے این پی کے مرکزی صدر کے علاوہ اس پارٹی کی نمائندگی پر قومی اسمبلی اور سینٹ کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ اپنی صبر آزما اور طویل جدوجہد ، خدمات کے بعد اجمل خٹک 7 فروری 2010 کو وفات پا گئے تاہم انہوں نے خطے خصوصاً پشتونوں کی سیاست ادب اور معاشرت پر گہرے نقوش چھوڑے۔