مورخہ6مارچ 2016ء بروز اتوار

ملک کی غلط پالیسیوں کے باعث دہشت گردی قبائل پر مسلط کی گئی ہے،سردار حسین بابک
قبائلی علاقوں میں جوڈیشری اور ایگزیکٹو کو الگ کرنا ہوگا تا کہ عوام کے مسائل حل ہو سکیں ،
اے این پی فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے ،
قبائلی عوام اپنے بنیادی مسائل کے حل کیلئے تمام اختلافات سے بالاتر ایک پیج پر متفق ہیں
اے این پی کے سابق دور حکومت میں اس سلسلے میں کافی اصلاحات کی گئیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ دہشت گردی قبائلی علاقوں کی پیداوار نہیں بلکہ یہ ملک کی غلط پالیسیوں کے باعث ان پر مسلط کی گئی ہے ۔ قبائلی علاقوں میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو وہاں کے عوام کی بھرپور حمایت و تائید حاصل ہونی چاہئے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام گو نا گوں مسائل سے دوچار ہیں اور ان کے مسائل کا واحد حل بلدیاتی انتخابات ہیں ، انہوں نے کہا کہ اگر پورے ملک میں عوامی مسائل کے حل کیلئے بلدیاتی انتخابات ضروری ہیں تو فاٹا کے عوام کو اس کے ثمرات سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی اور صوبے کی سات سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ فاٹا کے بنیادی مسائل حل کئے جائیں تاہم اس سلسلے میں قانون سازی اور اصلاحات کے عمل پر کام کرنے کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ فاٹا میں عرصہ دراز سے رائج کالے قانون ایف سی آر کا خاتمہ ہونا چاہئے اور قبائلی عوام کے فیصلوں کا اختیار فرد واحد کی بجائے خود قبائلیوں کے پاس ہو جو جمہوریت کی اصل روح ہے ، انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جوڈیشری اور ایگزیکٹو کو الگ کرنا ہوگا تا کہ عوام کے مسائل حل ہو سکیں ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرستان سمیت تمام آئی ڈی پیز کی جلد از جلد واپسی ممکن بنائی جائے اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے تا کہ وہ اپنی روز مرہ کی زندگی کا آغاز کر سکیں ، سردار حسین بابک نے کہا کہ اے این پی کے سابق دور حکومت میں اس سلسلے میں کافی اصلاحات کی گئیں لیکن بدقسمتی سے ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا ، قبائلی علاقوں میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کو قبائلی عوام کی سپورٹ حاصل ہونی چاہئے ورنہ ان کوششوں میں کامیابی حاصل نہیں ہو گی ۔