مورخہ : 5.4.2016 بروز منگل

ملاکنڈ ڈویژن کے جنگ زدہ اور آفت زدہ عوام کو پاکستان کیلئے قربانیوں کی سزا دی جا رہی ہے۔ایوب خان اشاڑی
کسٹم ایکٹ کے ظالمانہ فیصلے میں صوبائی اور مرکزی حکومتیں برابر کی شریک ہیں۔
اگر فیصلہ واپس نہیں لیا گیااور مراعاتی پیکجز کا اعلان نہیں کیا گیا تو عوام مزاحمت پر اُتر آئیں گے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر اور سابق صوبائی وزیر ایوب خان اشاڑے نے ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کے اقدام کو مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں کہ اس جنگ زدہ اور آفت زدہ علاقے کو پاکستان کے لیے دی گئی قربانیوں کی سزا دی جائے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن پہلے دہشتگردی اور بدامنی کی لپیٹ میں رہا اس کے بعد یہ زلزلے اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثر ہوا جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت میں اس علاقے کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ۔ اب ظلم کی انتہا کرتے ہوئے اس پر کسٹم ایکٹ نافذ کیا گیا۔ یہ تمام اقدامات اور رویے ثابت کرتے ہیں کہ علاقے کے عوام نے دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے جو جانی اور مالی نقصان اُٹھایا ہے اُنہیں اس کی سزا دی جارہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس ظالمانہ اور یکطرفہ فیصلے میں صوبائی اور مرکزی حکومتیں دونوں برابر کی شریک ہیں اس لیے حکمران جماعتوں کے لیڈر اور ممبران اسمبلی اپنی ذمہ داریوں سے خود کو مبریٰ نہیں کر سکتے اور ان کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔
اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ ڈویژن کے عوام اے این پی کی قیادت میں اس ظالمانہ فیصلے اور مراعاتی پیکجز کی واپسی جیسے اقدامات کے خلاف پر امن احتجاج پر نکل آئے ہیں ۔ اگر حکومت نے یہ فیصلہ واپس نہیں لیا اور مراعاتی پیکجز سمیت علاقے کی تعمیر نو اور ترقی پر توجہ نہیں دی تو عوام احتجاج کے بعد مزاحمت پر اُتر آئیں گے اور اس کی تمام تر ذمہ داری مرکزی اور صوبائی حکومتوں پر عائد ہوگی۔