مورخہ : 15.4.2016 بروز جمعہ

مرکز اور صوبوں کی دونوں برسر اقتدار پارٹیاں اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کی زد میں ہیں۔ میاں افتخار حسین
اے این پی نے دوسروں کے برعکس خطے کی نمائندگی ، امن کے قیام اور صوبے کی ترقی کیلئے قربانیاں دیں اور بری قیمت چکائی۔
صوبے کے عوام برسر اقتدار پارٹیوں کی منفی پالیسیوں اور کارکردگی سے بری طرح مایوس ہو چکے ہیں۔
پی کے 8 کے عوام مخصوص حالات کے تناظر میں اے این پی کوووٹ دیکر کامیاب کرائیں گے۔ لڑمہ میں انتخابی اجتماع سے خطاب

پشاور ( پ ر ) اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی ، اس کے قائدین اور کارکنوں نے خطے کی نمائندگی ، سلامتی ، امن اور حقوق کے تحفظ کیلئے سالہا سال تک تمام تر مشکلات کے باوجود مثالی جدوجہد کی اور اس جدوجہد کی حالیہ برسوں کے دوران بہت بڑی قیمت بھی چکائی ہے۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مخصوص حالات اور حکمران قوتوں کے منفی کردار کے تناظر میں صوبے اور خطے کے مفادات اور ترجمانی اے این پی کے علاوہ دوسری قوت کے بس کی بات نہیں ہے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق حلقہ پی کے 8 پشاور کی انتخابی مہم کے دوران لڑمہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اس حلقے کے عوام کے اکابرین نے ماضی میں خدائی خدمتگار تحریک اور اس کے تسلسل میں اے این پی کے پلیٹ فارم سے فعال کردار ادا کیا ہے۔ عوام کی دلچسپی اور رد عمل کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ حلقے کی نئی نسل اپنے اسلاف کی تاریخ کو پھر سے زندہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ دوسرے اُمیدواروں کے مقابلے میں اے این پی کے اُمیدوار کی حمایت کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ آج جو لوگ انتخابی میدان میں ہیں ان میں سے اکثریت کا تعلق موجودہ حکمران جماعتوں یا اُن کے اتحادیوں سے ہے جبکہ بعض ایسے ہیں جو کہ ماضی میں حکومتوں کا حصہ بھی رہے ہیں تاہم اس علاقے میں جتنے بھی ترقیاتی کام ہوئے ہیں ان کا کریڈٹ اے این پی کو جاتا ہے۔
اُنہوں نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکز اور صوبے کی برسر اقتدار دونوں پارٹیاں ناجائز اختیارات کے سنگین الزامات کی زد میں ہیں اس لیے دونوں کے کردار اور پالیسیوں پر پوری دُنیا میں اُنگلیاں اُٹھائی جا رہی ہیں۔ اور ملک کو بدترین بحران کا سامنا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ایک لیڈر کو بزنس کی آڑ میں دولت کمانے تو دوسرے کو زکوٰۃ میں غبن کرنے کے الزام کا سامنا ہے ایسے میں مسئلے کے حل کا واحد راستہ یہ ہے کہ سب کا بلاامتیاز مواخذہ اور احتساب کیا جائے اور قابل قبول تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام برسر اقتدار پارٹیوں اور ان کے حکومتی اتحادیوں کی پالیسیوں اور کارکردگی سے مایوس ہو چکے ہیں اور ان پر یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ عوام ، صوبے اور خطے کے مفادات اور حقوق کے تحفظ کا فریضہ اے این پی کے بغیر دوسری کوئی قوت سرانجام نہیں دے سکتی۔ اُنہوں نے کہا کہ حقائق کے ادراک کے بعد اے این پی کی مقبولیت کا گراف بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور پارٹی پی کے 8 کے ضمنی الیکشن میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ جلسہ سے پی کے 8 کے اُمیدوار اعجاز احمد سیماب اور صوبائی سیکرٹری مالیات خوشدل خان ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا۔