مورخہ 11مارچ 2016ء بروز جمعہ

مرکزی حکومت قبائلی عوام جبکہ صوبائی حکمران صوبے کے معاملات سے لاتعلقی کے رویے پر گامزن ہیں ۔ حاجی عدیل
سن 2000 تاجروں اور دیگر حلقوں کو بھتہ خوروں کی دھمکیاں مل رہی ہیں مگر حکومت کوئی اقدام نہیں اُٹھا رہی۔
مرکزی حکومت نے لاکھوں قبائلی عوام کو بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے اس کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہونگے۔
پشاور میں ریفرنس سے خطاب

پشاور (پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما حاجی محمدعدیل نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت امن کے قیام اور شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو گئی ہے اور صوبے کے تاجر ، سفید پوش طبقے کے لوگ ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں بے تحاشا اضافے کے باعث انتہائی تشویش کا سامنا کر رہے ہیں ۔ تاہم حکومت کو حالات کی سنگینی کا کوئی احساس نہیں ہے۔
پشاور میں ایک ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ تقریباً 200تاجروں ، صنعتکاروں کو بھتہ کیلئے دھمکیاں دی جا چکی ہیں جبکہ متعدد یا تو شہید کیے گئے یا اغواء کیے گئے۔ اس صورتحال نے عوام کے علاوہ ان حلقوں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے جن کا شہر اور صوبے کی معیشت کے فروغ میں اہم کردار ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ بات قابل افسوس ہے کہ مرکزی حکومت آئی ڈی پیز کے ایشوز اور مسائل سے لاتعلق ہو گئی ہے اور حکمرانوں نے لاکھوں متاثرین کو بے یارومدد گار چھوڑ دیا ہے۔اگر حکومت نے اپنے اس رویے پر نظر ثانی نہیں کی تو اس کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہوں گے اور قبائل کا حکومت پر سے اعتماد اُٹھ جائیگا اور صوبے کے عوام کی طرح لاکھوں قبائل میں بھی یہ احساس جڑ پکڑ لے گا کہ ان کے حقوق اور مفادات پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ اُنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عام شہریوں کے علاوہ تاجروں ، صنعتکاروں اور دیگر اہم طبقوں کو تحفظ فراہم کرے ورنہ سیاسی پارٹیاں اور عوام احتجاج پر مجبور ہوں گے اور نتائج کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔