مورخہ 29اپریل2016ء بروز جمعہ

مرکزی اور صوبائی حکومتیں پشتونوں اور صوبے کے عوام کو سزا دینے کے رویے پر گامزن ہیں۔ امیر حیدر خان ہوتی
خیبر لیکس کا معاملہ سنگین ہے۔ حکومت صفائی کی بجائے حقائق عوام کے سامنے لے آئیں۔
سنہ2018 کے الیکشن میں صوبے کے عوام اپنے ساتھ کی گئی ناانصافی کا بدلہ چکا دیں گے۔
دونوں بڑی پارٹیوں کی نظریں تخت لاہور پر لگی ہوئی ہیں۔ پی کے 8 میں انتخابی جلسے سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ اور پی ٹی آئی نے تخت پنجاب کی لڑائی میں اپنی سیاست کا محورپنجاب کو بنا لیا ہے اور اقتدار کی لالچ میں خیبر پختونخوا کو بھلا دیا گیا ہے ، صوبائی حکومت نے صوبے کے عوام کو چوہے مار مہم پر لگا کر روزگار دینے کا وعدہ پورا کیا جس کیلئے بعد میں فنڈز کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر مہم ختم کر دی گئی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارسدہ روڈ لنڈی سڑک پر پی کے 8کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے ایک عظیم الشان انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈاکٹر شاہین ضمیر نے اپنے خاندان ، رشتہ داروں اور دیگر سینکڑوں ساتھیوں سمیت تحریک انصاف سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور ان کا پارٹی میں خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کیا ، صوبائی صدر نے اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے اسفندیار ولی خان کے بارے میں ہرزہ سرائی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نوشہرہ میں جس کی کوئی حیثیت نہیں وہ باچا خان کے خاندان کے بارے میں منہ کھولنے سے گریز کرے کیونکہ جب میں نے منہ کھولا تو وزیر اعلیٰ کو صوبے میں کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ نام نہاد تبدیلی کے جھوٹے دعوؤں سے عوام بے زارہوچکے ہیں اوران کی نظریں اے این پی پر لگی ہوئی ہیں ، انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کو اپنی مقبولیت کا پتہ چل جائے گا ،نوجوان ہمارے ساتھ ہیں صوبائی حکومت کے پاس کوئی اختیا رنہیں ،خزانے کی چابیاں بنی گالہ میں پڑی ہیں، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام تبدیلی کے وعدوں اور دعوؤں کی حقیقت جان چکے ہیں اور 2018 کا الیکشن پی ٹی آئی اور ان کے حکومتی اتحادیوں کے عوامی محاسبے کا سال ثابت ہو گا انہوں نے کہا کہ صوبے کے نوجوان اور عوام تبدیلی کے دعویداروں کو بنی گالہ تک محدود کر کے دم لیں گے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی اورصوبائی حکومت نہ جانے پختونوں کو کس جرم کی سزا دے رہی ہیں تبدیلی کے دعویداروں نے روزگار کے متلاشی نوجوانوں کو تین سال بعد چوہے مارنے پر لگادیاہے اگر یہ تبدیلی ہے تو ایسی تبدیلی کو پختون نہیں مانتے اور 2018ء وعدوں کو ایفا نہ کرنے والوں کا خیبرپختون خوا سے بوریابستر گول کردیں گے،امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ خیبرلیکس کا معاملہ انتہائی سنگین ہے صوبائی حکومت صفائی پیش کرنے کی بجائے عوام کوجواب دے۔ انہوں نے کہاکہ خیبربنک کی انتظامیہ کی طرف سے صوبائی وزیرخزانہ پر لگائے گئے الزامات انتہائی تشویشناک ہیں اور جماعت اسلامی کو فری کرپشن پاکستان سے پہلے اپنی جماعت کو کرپشن سے پاک کرناچاہئے۔ انہوں نے کہاکہ کپتان بھی تضادات کے شکارہوچکے ہیں اوران کی صوبائی حکومت میں الٹی گنگا بہتی ہے ایک طرف سے وزیر کے احتساب کے لئے وزیر کی نگرانی میں کمیشن قائم کیاگیاہے جبکہ دوسری طرف وزیراعلیٰ تحقیقات سے قبل اپنے وزیرخزانہ کی بے گناہی کے راگ الاپ رہے ہیں یہ دوغلا اب نہیں چلے گا۔ پختون جاگ گئے ہیں اوران حکمرانوں کے کرتوں کو جان چکے ہیں انہوں نے کہا کہ عوام اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا بدلہ چکادیں گے انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کا خیبرپختون خوا کے غریب عوام کے مسائل سے کوئی سرورکار نہیں اور مسلسل پختونوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیارکررکھی ہے۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی کے دور حکومت میں ہرطرف ترقی کا دوردورہ تھا تبدیلی والوں کے دور میں ترقی کا پہیہ رک گیاہے اورتین سال گزرنے کے باوجود کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیاگیا بلکہ ہمارے ترقیاتی منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگارہے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ آنے والا دور اے این پی کا ہے اوراس کاواضح ثبوت یہ ہے کہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے عوام کی بڑی تعداد جوق در جوق اے این پی میں شامل ہو رہے ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لوگ اب تبدیلی والوں سے اکتا چکے ہیں،اس موقع پر جلسہ سے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک،ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان ، شازیہ اورنگزیب اور اعجاز سیماب نے بھی خطاب کیا۔