Mian Iftikhar Hussain visits Shabqadar

مورخہ : 9.3.2016 بروز بدھ

مرکزی اور صوبائی حکومتیں دہشتگردی کے معاملے پر مصلحت سے کام لیتی آرہی ہیں۔ میاں افتخار حسین
طالبان سے چار ملکی مذاکراتی عمل سے قبل اپنے طریقہ واردات کے مطابق ایسے حملوں کی توقع کی جا رہی تھی مگر حکومت غفلت کا شکار رہی ۔
دونوں حکومتوں نے اگر باجرأت فیصلے نہیں کیے تو حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ حملہ آور بندوبستی علاقوں میں پھیل گئے ہیں۔
دہشتگردی کے متاثرین کیلئے مختص بجٹ کے باجوو طبی ضروریات دستیاب نہیں تھیں، وزراء خود بھتہ دے رہے ہیں۔
شبقدر میں وکلاء اور میڈیا سے گفتگو
پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے بدھ کے دن شبقدر کا دورہ کرتے ہوئے وکلاء سے ملاقاتیں کیں اور متعدد شہداء کی رہائش گاہوں پر جا کر ان کے لیے فاتحہ خوانی کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی۔ اُنہوں نے شہید پولیس اہلکار شبیر حسین ، حمیداللہ خان کانگڑہ اور رضوان اللہ کی ہمشیرہ کے درجات کی بلندی کی دُعا کی اور متاثرین سے اظہار ہمدردی کی۔
اس موقع پر وکلاء ، متاثرین اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ چار ملکی مذاکرات کے مجوزہ عمل کے دوران طالبان کی یکطرفہ شرائط کے بعد حکومت کو جان لینا چاہیے تھا کہ وہ مذاکرات میں مخلص نہیں ہیں اور دباؤ بڑھانے کیلئے حملوں میں تیزی لائیں گے جو کہ ان کا ماضی میں بھی طریقہ واردات رہا ہے تاہم حالات کا اداراک نہیں کیا گیا اور اس مبینہ غفلت کے باعث سانحہ شبقدر رونما ہوا۔
اُنہوں نے کہا کہ بعض دوسرے حملوں کی طرح اس کارروائی کی بھی پیشگی اطلاعات اور خدشات موجود ہیں تاہم حکومت روایتی غفلت اور سست روی کا شکار رہی ۔ اُنہوں نے کہا کہ پہلے دہشتگرد فاٹا اور مخصوص علاقوں تک محدود تھے تاہم اب لگ یہ رہا ہے کہ یہ پہلے سے زیادہ منظم ہو گئے ہیں اور بندوبستی علاقوں میں پھیل گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پولیس کی جو نفری درکار تھی اس کو نظر انداز کیا گیا اور اس کا نتیجہ دہشتگردوں کے حملے کی صورت میں نکل آیا۔ اگر پولیس اہلکاروں نے بہادری نہیں دکھائی ہوتی تو جانی نقصان کئی گنا زیادہ ہوتا۔
اُنہوں نے کہا کہ 70 فیصد لوگوں کو طالبان گروپوں اور دیگر کی بھتہ خوری کا سامنا ہے۔ حالت یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے بعض وزراء اور لیڈرز بھی بھتہ دے رہے ہیں۔ عوام کو بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ اور حملوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے والی حکومت سے خیر کی توقی نہیں کی جا سکتی۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں دونوں خوف اور مصلحت کا شکار ہیں دونوں حکومتوں اور دیگر متعلقہ ریاستی اداروں نے اگر اپنے رویوں پر نظر ثانی کر کے باجرأت فیصلے نہیں کیے تو حملوں کی شرح اور حملہ آوروں کی قوت میں مزید اضافے کا راستہ ہموار ہو جائیگا اور حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ صوبائی بجٹ میں دہشتگردی کے واقعات اور متاثرین کیلئے مختص خصوصی بجٹ کے باجود اس کو بروئے کار نہیں لایا جا رہا۔ حالیہ واقعے کے بعد حالت یہ تھی کے متاثرین کیلئے دیگر امدادی سہولیات تو ایک طرف سرنج جیسی ضرورت بھی دستیاب نہیں تھی۔
اُنہوں نے کہا کہ مجوزہ مذاکراتی عمل پر اثر انداز ہونے اور اپنی شرائط منوانے کیلئے طالبان کے اس نوعیت کے مزید حملوں کا خدشہ موجود ہے اس لیے حکومتیں روایتی غفلت اور غیر سنجیدگی پر مبنی اپنا رویہ ترک کر کے موثر کاروائیاں یقینی بنائیں۔