مورخہ : 25.3.2016 بروز جمعہ

مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات اور پالیسیاں پنجاب کے مفادات تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ امیر حیدر خان ہوتی
عمران خان اپنے دعوؤں کے برعکس صوبے کے ایشوز سے لاتعلقی کے مجرمانہ رویے پر گامزن ہیں۔
صوبائی حکومت عوام کی جان ومال اور اجتماعی مفادات کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے۔
عوام 2013 کے الیکشن میں تبدیلی کے نام و نہاد دعوے کے حق میں ووٹ ڈالنے کے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں۔ مردان میں این وائی او کے کنونشن سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے صوبے اور فاٹا کو مسلسل نظر انداز کرنے کے حکمرانوں کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے پشتونوں کو بدترین حالات اور مسائل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور ان کی ترجیحات اور پالیسیاں پنجاب اور اس کے سیاسی ، اقتصادی مفادات تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں جس کے باعث فاٹا اور صوبے کے عوام میں تشویش پھیل گئی ہے۔ وہ شنکر مردان میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن (این وائی او) پی کے 30 کے کنونشن سے خطاب کر رہے تھے جس سے این وائی او کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ ، ضلعی ناظم حمایت اللہ مایار ، سینئر نائب صدر گلزار خان ، ضلعی صدر حارث خان ، جنرل سیکرٹری اویس خان اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
امیر حیدر خان ہوتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وفاقی حکومت کی تمام توجہ ، پراجیکٹس اور ترجیحات کا مرکز پنجاب ہے جبکہ عمران خان صوبہ خیبر پختونخوا کے مسائل اور ایشوز سے لاتعلق پر مبنی رویے پر گامزن ہیں۔ صوبے کے حالات بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔ سی پیک ، مردم شماری ، امن و امان اور تعلیم و صحت جیسے ایشوز پر صوبے کے مفادات داؤ پر لگے ہوئے ہیں تاہم دونوں حکومتوں کو صوبے اور فاٹا کے معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہو رہے ہیں جبکہ ہمارے صوبے کی حالت یہ ہے کہ حکمرانوں نے ہمارے اساتذہ ، والدین اور طلباء کے ہاتھوں میں بندوقیں تھمادی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام اور نوجوانوں کو 2013 میں تبدیلی کے نام پر بہکایا گیا تھا تاہم اب صوبے کے عوام اپنے فیصلے پر پچھتارہے ہیں۔
امیرحیدرخان ہوتی نے کامیاب کنونشن پر این وائی یو کے عہدیداروں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاکہ آج ان کے ارمان پورے ہوئے ہیں پختون قوم کے اتفاق اور اتحاد کے لئے جو جدوجہد باچاخان اور رہبرتحریک خان عبدالولی خان نے شروع کی تھی اس سفر میں نوجوان اب ہمارے شانہ بشانہ شامل ہوچکے ہیں یہ شروعات نوجوانوں کی بیداری کی پہلی کرن ہے جو مردان کی تاریخی سرزمین سے اٹھی ہے اورپورے پختون خوا میں پھیلے گی۔ امیرحیدرخان ہوتی نے تحریک انصاف کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پختون نوجوان اب سونامی کے ساتھ نہیں بلکہ سرخ نامی کے ساتھ ہیں عمران خان نوجوانوں کا اعتماد کھوچکے ہیں اوروہ صرف سرکاری تقاریب میں نوجوانوں کو اکٹھا کرنے تک محدودہوچکے ہیں۔ اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ صوبائی حکومت کے زیر سرپرستی اجتماعی شادیوں کے طریقہ کار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ سیاست چمکانے کے لئے کئی جوڑوں کو دوبارہ نکاح پڑھوانے پر مجبور کیاگیا۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات میں دواضلا ع واپس لئے گئے ہیں 2018میں تمام صوبے کے اختیارات بنی گالہ سے واپس لے کر دم لیں گے انہوں نے کہاکہ آئندہ انتخابات میں خیبرپختون خوا وزیراعظم کے انتخاب میں اہم اوربنیادی کردارہوگا انہوں نے کہاکہ اے این پی کے دور حکومت میں ہرطرف ترقی کا دوردورہ تھا تبدیلی والوں کے دور میں ترقی کا پہیہ رک گیاہے۔ موجودہ دور میں کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیاگیا بلکہ ہمارے ترقیاتی منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگارہے ہیں۔
کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے این وائی او کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ یہ ایک بڑا المیہ رہا ہے کہ دیگر صوبوں کے برعکس ہمارے صوبے میں عوامی مینڈیٹ کو مختلف طریقوں سے ہائی جیک کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ اس بات کا سب کو علم ہے کہ 2013 کے الیکشن میں تبدیلی کے نام پر سیاست کرنے والوں کو کن طریقوں سے نوازا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ این وائی او کے زیر اہتمام ہر حلقے اور ضلع کی سطح پر کنونشنز کا انعقاد کیا جائیگا تاکہ نئی نسل کو خطے کے بدلتے حالات ، چیلینجز اور ایشوز سے آگاہ کیا جائے اور نوجوانوں کو ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کا منظم طریقے سے احساس دلایا جائے۔