مورخہ : 26.3.2016 بروز ہفتہ

مردم شماری میں مسلسل تاخیر نے بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دے رکھا ہے۔ میاں افتخار حسین
اگر ملک میں عام انتخابات کرائے جا سکتے ہیں تو مردم شماری کرانے میں کونسی رکاوٹ حائل ہے۔
کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر کسی بھی مقصد کے استعمال کیلئے بات کرنا بھی قابل برداشت نہیں ہے۔
* مرکز اور پنجاب کے بعض رویے صوبوں کو بہت منفی پیغام دے رہے ہیں۔

پشاور( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے مشترکہ مفادات کونسل کے حالیہ اجلاس کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا ، بلوچستان اور سندھ کے مطالبے کے باوجود مردم شماری ملتوی کرنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل تعطل کے باوجود مردم شماری میں مسلسل تاخیر نے بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دے رکھا ہے اور اس رویے کے باعث چھوٹے صوبوں کے احساس محرومی میں مزید اضافے کا راستہ ہموار ہونے لگا ہے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان میں اُنہوں نے کہا کہ مردم شماری کرانا نہ صرف یہ کہ وقت کا تقاضا ہے بلکہ یہ وفاقی حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور اس کے بغیر صوبوں کے اقتصادی اور سیاسی مفادات کا تحفظ ممکن نہیں ہوتا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ملک میں ایک تسلسل کے ساتھ عام انتخابات کا انعقاد کرایا جا سکتا ہے تو مردم شماری کرانا کیوں ناممکن ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مرکز اور پنجاب ایک منصوبے کے تحت مردم شماری کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور یہ رویہ وفاق کی جانب سے دیگر صوبوں کو بہت منفی پیغام دے رہا ہے۔
میاں افتخار حسین نے مزید کہا ہے کہ حالیہ اجلاس کے دوران سیلاب سے بچاؤ کی حکمت عملی کے نام پر مسترد کردہ کالاباغ ڈیم منصوبے کے آپشن یا امکان پر بات کرنا قابل افسوس ہے۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی سیلاب سے بچاؤ کیلئے ایک ایسے منصوبے پر اعلیٰ سطحی بحث ہو رہی ہے جس کو تین صوبے متفقہ طور پر کئی بار مسترد کر چکے ہیں اور جس کی تعمیر کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی۔
اُنہوں نے کہا کہ اس قسم کے رویے صوبوں کے مفادات اور حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہیں اور ان آئینی ترامیم اور قومی فیصلوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ جو گزشتہ پارلیمانی ادوار میں کیے گئے ہیں اور جن سے صوبوں کے خدشات میں کافی حد تک کمی واقع ہوگئی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا خاتمہ صوبوں کے حقوق کا تحفظ کرنا پاکستان کی سلامتی ، استحکام اور مستقبل کیلئے ناگزیر ہیں اور اس سلسلے میں مزید کسی قسم کی غلطی یا زیادتی کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے اس لیے وفاق اپنی ذمہ داریوں اور حالات کا ادراک کرے۔