5.2.2016 NYO Pic

مورخہ : 5.2.2016 بروز جمعہ

پشاور(پریس ریلیز) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے اساتذہ اور چوکیداروں پر سکولوں کے تحفظ کی ذمہ داری ڈالنے کے فیصلے کو ریاست اور حکومت کی بنیادی فلسفہ کے نفی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تبدیلی کے دعویداروں کی مضحکہ خیز طرز حکمرانی عوام کیلئے تشویش کا باعث ہے اور تحریک انصاف صوبے میں اپنا حق حکمرانی کھو چکی ہے۔ اُنہوں نے یہ بات آج مردان میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے حلقہ پی کے 24 کے یوتھ کنونشن کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کی صدارت نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے ضلعی صدر حارث خان کر رہے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ باچا خان بابا کے برسی کے روز باچا خان یونیورسٹی پر حملہ اس مٹی پر امن کے متوالوں کیلئے ایک پیغام تھا جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ پر ذمہ داری عائد کرنا دہشتگردی کے خلاف ایک شکست خوردہ طرز عمل اور غیر سنجیدہ رویے کی عکاس ہے جو نہایت خطرناک بات ہے ۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے مٹی کی سیاست کے امین نہ پہلے جھکے ہیں اور نہ اب مرعوب ہونگے اور حکومت کی مجرمانہ عدم سنجیدگی پر اس کا کڑا احتساب کرنے کیلئے میدان میں اُتریں گے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی جنرل سیکرٹری حسن بونیری اور حلقہ پی کے 24 کے سابق اُمیدوار علی خان نے کہا کہ پختونخوا کے عوام کے سامنے تبدیلی کے دعویداروں کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے اور آئندہ الیکشن میں اس مٹی کی حقیقی سیاسی نمائندہ تحریک کی کامیابی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی صدر حارث خان نے کہا کہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن ضلعے کے ہر صوبائی حلقے میں یوتھ کنونشنز کا انعقاد کر رہی ہے جو نوجوانوں کی سیاسی فعالیت اور شعور اُجاگر کرنے میں ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔