Graphic1

مورخہ 10فروری 2016ء بروزبدھ
محکمہ صحت میں لازمی سروس ایکٹ کا نفاذ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ،عمران دوغلا پن کا شکار ہیں،میاں افتخار حسین
سپریم کورٹ شعبہ صحت میں لازمی سروس ایکٹ کے حوالے سے بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعد م قرار دے چکی ہے،
محکمہ صحت کو نجکاری کے یکطرفہ عمل کی نذر نہیں ہونے دیا جائیگا اور اے این پی اس ایشو پر محکمہ صحت کے تمام ہڑتالی ملازمین کے ساتھ کھڑی رہے گی
حکومتی اہلکاروں کی جانب سے باچا خان یونیورسٹی انتظامیہ پر باچا خان کا پورٹریٹ ہٹانے کیلئے دباؤ ڈالنا قابل مذمت ہے

باچا خان کے پورٹریٹ کوکسی نے ہاتھ لگایا توپرامن طریقے سے اس کا محاسبہ کریں گے، ایل آر ایچ میں مظاہرے سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ہم عدالتی فیصلوں کا حترام کرتے ہیں تاہم لازمی سروس ایکٹ سے متعلق عدالت عظمیٰ بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم اور اسے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہے اور اس حوالے سے عمران خان غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں،جبکہ پختونخوا کے محکمہ ہیلتھ کے احتجاجی ذمہ داران سپریم کورٹ میں کیس داخل کر چکے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں ہسپتالوں کی ممکنہ نجکاری اور لازمی سروس ایکٹ کے خلاف ہڑتالی ڈاکٹروں اور ملازمین کے احتجاجی مظاہرے اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اے این پی کی مرکزی رہنما بشریٰ گوہر ،صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک، شگفتہ ملک اور شکیلہ بی بی بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ تھیں ،اے این پی کے وفد نے ہسپتال میں ملازمین کے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، میاں افتخار حسین نے ہڑتالی ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹروں کی ہڑتال اور اس دوران ٹینٹ لگاکر غریب عوام کے ایمر جنسی علاج معالجے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ عمران خان اٹک کے دونوں جانب الگ الگ پالیسی اپنائے ہوئے ہیں،اور دوغلا پن کا شکار ہیں، انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں کپتان نے ڈکٹیٹرز جیسا رویہ اپنا یا ہوا ہے جو کسی صور ت مناسب نہیں ، انہوں نے عمران خان کی جانب سے ہڑتالی ملازمین کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آرز اور ان کی گرفتاری کے بارے میں بیان کی بھی مذمت کی اور کہا کہ جمہوریت میں اس قسم کے بیانات آمرانہ ذہن کی پیداوار ہیں اور جو دھمکی آمیز رویہ انہوں نے اپنایا ہوا ہے وہ جمہوریت کی نفی ہیمیاں افتخار حسین نے اس موقع پر کہا کہ تین سال گزرنے کے باوجود صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی بلکہ صورتحال پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کو ایڈ ہاک ازم کی بنیاد پر چلانے اور اس کی آڑ میں اپنوں کو نوازنے کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس رویے کے باعث نہ صرف یہ کہ صوبے کے عوام صحت کی سہولیات سے محروم رکھے جا رہے ہیں بلکہ ڈاکٹروں میں بدترین بے چینی بھی پھیل گئی ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ کسی بھی قیمت پر محکمہ صحت کو نجکاری کے یکطرفہ عمل کی نذر نہیں ہونے دیا جائیگا اور اے این پی اس ایشو پر ڈاکٹروں کے ساتھ کھڑی رہے گی تاکہ محکمہ صحت کو تباہی سے بچایا جائے اور حکومت کے عوام دُشمن پالیسیوں کا راستہ روکا جاسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کیلئے ہر طبقے کی جدوجہد کی حمایت کرتی آئی ہے اور اس ایشو پر بھی پارٹی اپنا مثبت کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ اور ایسے بعض دیگر حکومتی اقدامات کے ذریعے محکمہ صحت کو دیوالیہ ہونے نہیں دینگے جبکہ ڈاکٹروں کے حقوق کے تحفظ کیلئے بھی موثر آواز اُٹھائی جائیگی،انہوں نے کہا کہ مذکورہ ایکٹ سے غریب عوام کو حاصل مفت طبی سہولیات کی فراہمی بی ختم ہو جائے گی جبکہ ہسپتال کی حالت زار سب کے سامنے ہے جہاں ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے عوام پہلے ہی پریشان ہیں اور صوبائی حکومت نے اس مسئلے کو یکسر نظر انداز کر رکھا ہے
، میاں افتخار حسین نے کہا کہ میڈیا کو ڈاکٹرزاور لازمی سروس ایکٹ کے نفاذ کے حوالے سے بریفنگ دینا صوبائی حکومت کا کام ہے جبکہ یہاں عمران خان صوبائی حکومت کی طرف سے پریس بریفنگ دیتے ہیں جو غیر آئینی ہے عمران خود کو ملک کا بادشاہ اور باقی سب کو رعایا تصور کئے ہوئے ہیں جبکہ پریس بریفنگ کے دوران وزیر اعلیٰ نے کوئی بات کرنا بھی چاہی تو انہیں اجازت نہیں دی گئی ، انہوں نے کہا کہ ملازمین کے معاملے میں اے این پی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنا چاہتی بلکہ عوام کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی اور ملازمین کے حقوق کی بات کرتی ہے، حکومت کو چاہئے کہ ان ملازمین کے ساتھ مل بیٹھ کر افہام و تفہیم سے معاملات حل کرے اور ان کے جائز مطالبات تسلیم کئے جائیں ، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے،جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ مقتول تاجر رہنما حاجی حلیم جان نے بھتہ خوروں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں سے حکومت کو آگاہ کیا جس کے جواب میں انہیں کہا گیا کہ رقم ادا کریں اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، میاں افتخار حسین نے مقتول تاجر حاجی حلیم جان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھتہ خوروں اور صوبائی حکومت کی کمزوری و ناکامی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی بجائے شہادت کو ترجیح دی،انہوں نے بعض اخبارات میں شائع اور سوشل میڈیا پر چلنے والی اس خبر کی بھی مذمت کی جس میں حکومتی اہلکاروں کی جانب سے باچا خان یونیورسٹی انتظامیہ پر باچا خان کا پورٹریٹ ہٹانے کیلئے دباؤ ڈالا گیا ہے انہوں نے کہا کہ باچا خان آزادی کے ہیرو تھے اور اگر وہ اپنی کوششوں سے فرنگیوں کو یہاں سے نہ بھگاتے اور پاکستان آزاد ملک نہ ہوتا تویہاں پر لوگ بڑے بڑے عہدوں پر فائز نہ ہوتے ، انہوں نے کہا کہ ہم عدم تشدد پر یقین رکھنے والے ہیں تاہم اگر کسی نے باچا خان کے پورٹریٹ کو ہاتھ لگایا توپرامن طریقے سے اس کا محاسبہ کریں گے ، انہوں نے کہا کہ اگر حکومتی سطح پر بھی ایسی کوئی ناپاک کوشش کی گئی تو ہم حکومتی اداروں کو مفلوج کر دیں گے۔