anp pic -- 04.02.2016

مورخہ : 4.2.2016 بروز جمعرات

محکمہ صحت ، تعلیم اور دیگر قومی اداروں کو پی ٹی آئی حکومت کی عوام دُشمن پالیسیوں کی بھینٹ چڑھنے نہیں دینگے۔ اے این پی
حکومت محکمہ صحت کو ایڈہاک ازم اور کارپوریٹ سیکٹر کے ذریعے تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ میاں افتخار حسین
ضرورت اس بات کی تھی کہ سہولیات مفت فراہم کی جائیں اور اس میں اضافہ کیا جاتا ۔ تاہم حکومت نے تبدیلیاں لانے کی بجائے پہلے سے موجود سسٹم کو تباہ کرکے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔
محکمہ صحت کو نجکاری یا ایم ٹی آئی ایکٹ کے ذریعے دیوالیہ ہونے نہیں دیا جائیگا۔ اس کے خلاف اسمبلی فلورپر آواز اُٹھائیں گے۔ سردار حسین بابک

پشاور(پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی نے صحت ، تعلیم اور بعض دیگر سرکاری محکموں کی ناقص اور عوام دُشمن حکومتی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی حکومت کی تبدیلی کے دعوؤں کو غلط قراردیا ہے اور واضح کیا ہے کہ محکمہ صحت کو نجکاری کے نام پر تباہ ہونے کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جائیگی۔
باچا خان مرکز پشاور میں ہیلتھ ایمپلائنز کوآرڈینیشن کونسل کے ایک نمائندہ وفد سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت کی مجوزہ ہیلتھ پالیسی کو عوام دُشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے حکومت کی ناقص اور یکطرفہ ہیلتھ پالیسی کے باعث صوبے میں ہسپتالوں کی حالت دگردوں ہے اور عوام بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں ۔
میاں افتخار حسین نے اس موقع پر کہا کہ تین سال گزرنے کے باوجود صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی بلکہ صورتحال پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کو ایڈ ہاک ازم کی بنیاد پر چلانے اور اس کی آڑ میں اپنوں کو نوازنے کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس رویے کے باعث نہ صرف یہ کہ صوبے کے عوام صحت کی سہولیات سے محروم رکھے جا رہے ہیں بلکہ ڈاکٹروں میں بدترین بے چینی بھی پھیل گئی ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ کسی بھی قیمت پر محکمہ صحت کو نجکاری کے یکطرفہ عمل کی نذر نہیں ہونے دیا جائیگا اور اے این پی اس ایشو پر ڈاکٹروں کے ساتھ کھڑی رہے گی تاکہ محکمہ صحت کو تباہی سے بچایا جائے اور حکومت کے عوام دُشمن پالیسیوں کا راستہ روکا جاسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کیلئے ہر طبقے کی جدوجہد کی حمایت کرتی آئی ہے اور اس ایشو پر بھی پارٹی اپنا مثبت کردار ادا کرے گی۔
اُنہوں نے کہا یہ افسوس کی بات ہے کہ موجودہ حکومت سے تین بجٹ لیپس ہوئے جس سے صوبے کے مجموعی مفادات اور ترقی کے عمل کو سخت نقصان پہنچا ۔ اُنہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں سے عام لوگوں کا مفاد وابستہ ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ سہولیات مفت فراہم کی جائیں اور اس میں اضافہ کیا جاتا ۔ تاہم حکومت نے تبدیلیاں لانے کی بجائے پہلے سے موجود سسٹم کو تباہ کرکے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔
وفد سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پالیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا کہ عمران خان اور ان کی پارٹی دوغلی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے ۔ ایک طرف پی آئی اے کی نجکاری کی مخالفت کی جا رہی ہے مگر دوسری جانب محکمہ صحت کو نجکاری کے نام پر تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم میں جس طریقے سے توڑ پھوڑ کا عمل جاری ہے اور کارپوریٹ سیکٹر کو جس انداز میں صوبے پر مسلط کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اس کی بھرپور مزاحمت کی جائیگی اور قومی اداروں کو اونے پونے فروخت کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائیگی۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ حکومت کے اس رویے کے خلاف اسمبلی فلور پر بھی آواز اُٹھائی جائیگی۔ اُنہوں نے کہا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ اور ایسے بعض دیگر حکومتی اقدامات کے ذریعے محکمہ صحت کو دیوالیہ ہونے نہیں دینگے جبکہ ڈاکٹروں کے حقوق کے تحفظ کیلئے بھی موثر آواز اُٹھائی جائیگی۔ قبل ازیں کونسل کے نمائدہ وفد نے اے این پی کے قائدین کو ایم ٹی آئی ایکٹ مجوزہ نجکاری ، ڈاکٹروں کے مسائل اور بعض دیگر حکومتی اقدامات کے منفی اثرات اور اپنی تشویش سے آگاہ کیا اور ان کو تفصیلات بتائیں۔