مورخہ : 17.3.2016 بروز جمعرات

مبینہ ریاست اور حکومتی سست روی سے دہشتگردی میں مزید اضافہ کا راستہ ہموار ہو گا۔ میاں افتخار حسین
حالیہ لہر کا جائزہ لینے کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے نکات ، عمل درآمد اور دیگر اقدامات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
صوبہ پختونخوا کو محفوط بنائے بغیر پاکستان کو محفوظ بنانے کا تصور اور دعوے بے معنی ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ حملہ آوروں نے فورسز ، سیاسی کارکنوں اور عوام کو نشانہ بنانے کیلئے صوبہ پختونخوا کو میدان جنگ بنادیا ہے۔
ڈرون حملوں کو دہشتگردی کا جواز بتانے والے عمران خان بتائیں کہ ان کی حکومت اس سلسلے کی روک تھام کیلئے کیا کر رہی ہے۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشتگردی کی حالیہ لہر کو مدنظر رکھتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات پر نظر ثانی کے علاوہ اس بات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہو گیا ہے کہ دہشتگرد صوبہ خیبر پختونخوا ہی سے کیوں انتقام لینے پر تلے ہوئے ہیں۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ اگر ریاست نے ماضی میں مصلحت سے کام لیتے ہوئے گڈ اور بیڈ کی تفریق کے بغیر کارروائیاں کی ہوتیں اور مختلف بہانوں کی آڑ میں بعض تنظیموں کیساتھ بوجوہ رعایت نہیں برتی ہوتی تو صورتحال کافی مختلف ہوتی۔ اُنہوں نے کہا کہ آج جو گروپ ریاست ، حکومت اور معاشرے پر حملہ آور ہیں ماضی میں ان کا شمار اچھے بچوں میں ہوا کرتا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں عمران خان جیسے لیڈروں کا موقف تھا کہ دہشتگرد حملے ڈرون حملوں یا بعض دیگر عوامل کا رد عمل ہیں ۔ وہ قوم کو بتائیں کہ اب حملے کیوں ہو رہے ہیں اور اس سلسلے کی روک تھام کیلئے ان کی حکومت کیا کر رہی ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ تمام تر دعوؤں کے برعکس دہشتگرد پھر سے منظم ہو گئے ہیں تاہم المیہ یہ ہے کہ اُنہوں نے فورسز ، سیاسی کارکنوں اور عوام کو نشانہ بنانے کیلئے پشتون سرزمین کو میدان جنگ بنایا ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جس منظم طریقے سے صوبے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کا ریاست کو ادراک ہونا چاہیے اور صورتحال سے نمٹنے کیلئے فورسز اور حکومتوں کو بھی اُسی منظم انداز میں آگے بڑھ کر ان کا راستہ روکنا ہو گا۔ اُنہوں نے کہا کہ ابھی اعلان کردہ تیرہ افراد کی پھانسیاں بھی عمل میں نہیں لائی گئی تھیں کہ دہشتگردوں نے 17 معصوم شہریوں کی جانیں لیں۔ خدشہ ہے کہ اب حملوں کی پوری ایک سیریز چلے گی اور اگر ریاست اور حکومتیں سست روی کا شکار رہیں تو رد عمل میں دہشتگردی کی لہر میں مزید اضافہ ہوگا اور یہ دعوے دم توڑ جائیں گے کہ ان کی کمر توڑ دی گئی ہے یا اُن کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ اُنہوں نے سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پلان کے بیس نکات کا دوبارہ جائزہ لیکر موثر اور تیز حکمت عملی وضع کی جائے ورنہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر صوبہ پختونخوا اسی تسلسل کیساتھ حملوں کا نشانہ بنتا رہا تو اس سے یہ سوال سر اُٹھانے لگے گا کہ صوبے کو محفوظ بنائے بغیر پاکستان کو محفوظ بنانے کا دعویٰ کیسے کیا جاسکتا ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ تمام کالعدم تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں ناگزیر ہو چکی ہیں اور اس میں مزید تاخیر کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔