مورخہ 16مئی2016ء بروز پیر

لوڈ شیڈنگ کا جن بے قابو ہو چکا ہے، عوام اذیت سے دوچار ہیں، سردار حسین بابک
مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں جبکہ عوام لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بے حال ہو چکے ہیں
لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کیلئے اپنی تمام تر توجہ توانائیاں صرف کی جائیں تا کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر آ سکیں۔
صوبائی حکومت اے این پی کے شروع کردہ بجلی کے تمام منصوبوں پر بلاتعطل کام جاری رکھے تا کہ پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے گرمیوں کے آغازاور رمضان المبارک کی آمد سے قبل ناروا لوڈشیڈنگ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ، پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں کہا کہ گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی صوبے کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی ترسیل بند کر دی گئی ہے اور ناروا لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ بدترین لوڈشیڈنگ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں جبکہ عوام لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بے حال ہو چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں تنقید کرنے والے اور اسے گالیاں دینے والے آج صوبے اور مرکز میں حکومتوں میں بیٹھے ہیں لہٰذا وہ قوم کو بتائیں کہ کسی پر تنقید کرنا اور کسی کو گالیاں دینا انتہائی آسان ہے لیکن درپیش مسئلے کو حل کرنا کتنا مشکل ہے،
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو رمضان کی آمد سے قبل لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کیلئے اپنی تمام تر توجہ توانائیاں صرف کرنی چاہئے تا کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر آ سکیں انہوں نے کہا کہ مرکز کو اپنی تمام تر توجہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور بجلی کی فراہمی پر دینی چاہیے ، انہوں نے صوبائی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مسئلے کو مزید الجھانے کی بجائے اسے حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ،اور غریب اور پسے ہوئے لوگوں کے مسائل میں کمی کی بجائے اضافے سے اجتناب کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو بھی اے این پی کے شروع کردہ بجلی کے تمام منصوبوں پر بلاتعطل کام جاری رکھنا چاہیے ،تا کہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر دونوں حکومتیں ایکدوسرے پر تنقیدکی بجائے مسئلے کے حل کیلئے ایکدوسرے کا ساتھ دیں تو عوام کو سہولیات ملنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔