مورخہ 20مارچ 2016ء بروز اتوار
قوموں کی تقدیر بدلنے اور انقلابات زمانہ میں شعراء کا کردار ازل سے بنیادی رہا ہے، امیر حیدر خان ہوتی
شاعری اور قلمکاری کے بناء انسانی زندگی کا تصور ممکن نہیں ،خدائی خدمت گار تحریک میں ہمارے قلم کاروں کی قربانیاں نا قابل فراموش ہیں
شعراء نے ہمیشہ تنگ نظری ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قلمی جہاد کیا ہے
قلم کاروں نے جمہوریت کی بحالی اور آمریت کے خلاف قید وبند کی صعوبتیں تک برداشت کیں اور ظلم و جبر کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان خان ہوتی نے کہا ہے کہ قوموں کی تقدیر بدلنے اور انقلابات زمانہ میں شعراء کا کردار ازل سے بنیادی رہا ہے ، 21مارچ کو شاعری کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ شاعری اور قلمکاری کے بناء انسانی زندگی کا تصور ممکن نہیں ،ہمارے شعراء اور لکھاریوں نے امن اور انسان دوستی کا جو درس دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ، صوبائی صدر نے کہا کہ تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو شعراء نے نہ صرف تنگ نظری ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قلمی جہاد کیا ہے بلکہ خدائی خدمت گار تحریک میں ہمارے قلم کاروں کی قربانیاں نا قابل فراموش ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ پختونوں کے حقوق کی خاطر ہمارے شعراء اور ادباء نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا بلکہ جمہوریت کی بحالی اور آمریت کے خلاف قید وبند کی صعوبتیں تک برداشت کیں اور ظلم و جبر کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اپنی زبان اور ادب کیلئے ہمیشہ قربانی دی اور اس کی ترقی اور ترویج کیلئے ہمیشہ دلجمعی سے کام کیا اوربا چا خان بابا کی جانب سے شروع کئے جانے والے ’’ پختون میگزین کی طباعت اس بات کا بین ثبوت ہے، انہوں نے کہا کہ خدائی خدمت گاروں کی تحریک میں قلم کاروں نے باچا خان کے شانہ بشانہ آزادی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے قلم کے ذریعے جہاد کیا ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ا دب چاہے کسی بھی زبان کا ہو دراصل مسائل حیات کے اظہار،ترجمان اوررہنما کا نام ہے اوردنیا کی ہرزبان کے ادب کی سب سے قدیم اور بنیادی صنف شاعری ہے،چاہے وہ لوک شاعری ہو،کلاسیکی یاجدید شاعری ہو بنیادی طور پر اپنے سماج کی حقیقتوں کا عکس اور آئینہ ہے،مسائل حیات ہی شاعری کا خام مواد ہوتے ہیں،شاعری کا تانا بانا اسی سے بُنتاہے،لیکن شاعر ان مسائل حیات کو کس طرح اور کس انداز میں شاعری میں ڈھالتاہے دراصل یہ وہ پہلو ہے جس سے شاعری کے درجے اور کسی شاعر کا مقام اور مرتبہ مقررہوتاہے،انسانی خیالات،جذبات واحساسات اور ان کے فنی مظاہرکا براہ راست تعلق زندگی کے عروج وزوال سے ہے،اور جس طرح کسی معاشرے کے ذرائع پیداوارمیں تبدیلی آتی ہے اسی طرح انسانی خیالات بھی بدلتے جاتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم تاریخ کے بدترین اور بہت ہی نازک موڑ پر کھڑے ہیں،ہم نے اسی مٹی پر آنکھ کھولی ہے یہیں ہمارا مرنا اور جیناہے،یہیں ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کو جیناہے توکیا ہم پر اپنی اس دھرتی،اپنی قوم اور اپنی زبان کا کوئی ادبی اور علمی قرض نہیں بنتا؟ اور کیا اس جنگ میں ہم پر امن کی خاطر قلمی جہاد فرض نہیں ہے؟ہمارے عہدکا اصل المیہ تعصب،تنگ نظری، رجعت پرستی ،مذہبی انتہاپسندی،شدت پسندی اور دہشت گردی ہے اور یہ موجودہ تمام امراض ہمارے معاشرے میں الفاظ ہی کے ذریعے سے تقاریر سے،کتب و رسائل سے اور اب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے پھیلتے جارہے ہیں جن سے چھٹکارا پانے کیلئے باقی تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ قلم کے ذریعے جہاد بھی فرض ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی شعراء ادباء اور قلم کاروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ اُ نہیں اُن کا جائز مقام اور مرتبہ دینے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔