مورخہ 23فروری 2016ء بروز منگل

فاٹا ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ میں کروڑوں کی کرپشن کی تحقیقات کی جائیں، ستارہ ایاز
سہولیات کی فراہمی کی بجائے ڈائریکٹوریٹ تباہ حال قبائلیوں کے حقوق سلب کرنے میں مصروف عمل ہے
ادویات اور طبی سامان کی خریداری کا ٹنڈر مشتہر کرنے کے چار ماہ بعد بھی کام کا آغاز نہ ہو سکا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما سینیٹر ستارہ ایاز نے فاٹا کیلئے ادویات اور طبی سامان کی خریداری میں ہونے والی بے قاعدگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے کروڑوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات کی جائیں اور پسماندگی کے شکار قبائلی عوام کے حقوق غصب کرنے والوں کا محاسبہ کیا جائے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک ٹینڈر مین پری کوالیفیکیشن کی شرط رکھی گئی ہے جبکہ دوسرے ٹینڈر میں ایسی کوئی شرط نہیں،انہوں نے کہا کہ نومبر 2015میں پہلی بار فاٹا کیلئے ادویات اور طبی سامان کی خریداری کا ٹینڈر مشتہر کیا گیا تاہم چار ماہ گزرنے کے باوجود اس پر کوئی کام نہ ہو سکا جبکہ جنوری2016میں وہی ٹینڈر دوباہ مشتہر ہوا لیکن اس میں پری کوالیفیکیشن کی شرط نہیں رکھی گئی جس سے کمیشن کا عنصر صاف ظاہر ہے، ستارہ ایاز نے کہا کہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے قبائلی علاقوں میں تعمیر و ترقی اور وہاں کے عوام کو ان کے جائز حقوق دینے کیلئے سب کو مل کر کام کرنا چاہئے جبکہ فاٹا ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور وہ تباہ حال عوام کے حقوق غصب کرنے میں مسلسل مصروف عمل ہیں ، انہوں نے کہا کہ تباہ حال علاقے کی ترقی کیلئے وہاں کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق دینا انتہائی ضروری ہیں ، تاہم ہمارے حکمران اور پالیسی سازوں کو اس بارے خصوصی توجہ دینا ہو گی اور فاٹا کے عوام کو تعلیم اور صحت کے حوالے سے بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کیلئے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کرنا ہونگے ، انہوں نے مذکورہ ٹینڈرز میں ہونے والی بے قاعدگیوں کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کا بھی مطالبہ کیا۔