مورخہ 16فروری 2016ء بروز منگل

فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم اور قبائلی عوام کیلئے ابھی سے خصوصی مراعات کا اعلان کیا جائے ، میاں افتخار حسین
دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں لانا ہو گا ،
بنیادی انسانی حقوق کی اس جنگ میں ہماری جماعت قبائلیوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی ،مظاہرے سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنر ل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کو فوری طور پر خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے اور ان قبائل کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان ابھی سے کیا جائے تا کہ ان علاقوں کی پسماندگی دور کرنے میں مدد کی جا سکے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب کے سامنے ایف سی آر کے خلاف فاٹا سیاسی اتحاد کے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے صوبائی نائب صدر عمران آفریدی اور جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک بھی اس موقع پر موجود تھے۔ میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایف سی آر کا قانون انگریز سامراج کا مسلط کردہ ہے اور سالہا سال گزرنے کے باوجود قبائلی عوام اس کالے قانون کے تسلط سے آزاد نہیں ہو سکے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی قبائلی عوام کے مطالبات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور بنیادی انسانی حقوق کی اس جنگ میں ان فاٹا کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، انہوں نے کہا کہ تقریباً 30سال قبل تک قبائل میں اس قسم کی ہم اہنگی اور اتفاق دیکھنے میں نہیں آیا تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ اب وہاں کے عوام خیبر پختو نخوا کا حصہ بننے کیلئے میدان عمل میں ہیں انہوں نے کہا کہ طویل عرصہ کے انتظار کے بعد قدرت نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ آج قبائل متفق ہوئے اور تمام مکتبہ فکر کے لوگوں نے ایک اتحاد قائم کیا اور اب وہ اس بات پر پوری طرح ڈت چکے ہیں کہ ہمیں صوبے کا حصہ بنایا جائے ، انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر بھی قبائلی عوام کے نمائندوں نے ایک قرارداد کی صورت میں متفقہ مطالبہ کیا کہ ہمیں خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا جائے ،میاں افتخار حسین نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف نے بھی اس حوالے سے مثبت رائے کا اظہار کیا جبکہ عسکری قیادت کی جانب سے بھی مختلف اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہوئیں کہ اگر قبائل کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنا دیا جائے تو دہشت گردی کے خاتمے میں کافی مدد مل سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ اب سوال یہ ہے کہ جب قبائلی عوام سیاسی و عسکری قیادت اور خیبر پختونخوا کے عوام سب ہی اس پر متفق ہیں تو پھر رکاوٹ کون بن رہا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ وہ قوتیں ہو سکتی ہیں جو اس بات سے ڈرتی ہیں کہ اگر قبائل صوبے میں ضم ہو گئے تو پختون ایک مٹھی بن جائیں گے اور دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط محاذ بن جائیگا،انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے سپورٹر کسی نہ کسی صورت اس کوشش میں ہیں کہ پختون ایک نہ ہو پائیں،انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس مطالبے پر ڈٹ جائیں تا کہ قبائلی عوام کو ان کے جائز بنیادی حقوق کیلئے خیبر پختونخوا میں شامل کیا جا سکے۔مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ صوبے میں ضم ہونے والے قبائل کیلئے ابھی سے ایک پیکج کا اعلان کیا جائے جیسا کہ مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کو آپس میں ضم کئے جانے کے وقت دیا گیا تھا تا کہ اس پسماندہ علاقے ترقی کر سکیں ، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا حصہ بننے والے قبائل کا بجٹ میں اپنا حصہ ہونا چاہئے جبکہ وزارتوں میں بھی ان کو حصہ ملنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ پسماندگی کے خاتمے کیلئے ایک مراعای پیکج کا اعلان ابھی سے کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ پختونوں کے درمیان انگریز کی کھینچی گئی لکیر ختم ہو جائے گی اور اے این پی اس سلسلے میں قبائلیل عوام کے شابہ بشانہ کھڑی رہے گی۔