مورخہ 28اپریل2016ء بروز جمعرات

عوام2018کے الیکشن میں پی ٹی آئی اور ان کے اتحادیوں کا بستر گول کر دیں گے، امیر حیدر خان ہوتی
مرکزی اورصوبائی حکومت نہ جانے پختونوں کو کس جرم کی سزا دے رہی ہیں،
مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کا خیبرپختون خوا کے غریب عوام کے مسائل سے کوئی سرورکار نہیں
تبدیلی والوں کے دور میں ترقی کا پہیہ رک گیاہے اورتین سال گزرنے کے باوجود کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیاگیا
* عوام جان چکے ہیں کہ تبدیلی کے نام پر ان کے ساتھ مذاق اور دھوکہ کیا جا چکا ہے، باچا خان مرکز میں شمولیتی تقریب سے خطاب
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ صوبے کے عوام جان چکے ہیں کہ تبدیلی کے نام پر ان کے ساتھ مذاق اور دھوکہ کیا جا چکا ہے اورصوبائی حکومت کو پشتونوں کے مسائل کے حل اور ان کی نمائندگی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر قومی وطن پارٹی کے رہنما ابرار خلیل نے اپنے دیگر ساتھیوں ناظم یو سی40تہکال بالا سے فرید اللہ ،حمید اللہ جنرل کونسلر ،گل خان ،یوتھ کونسلر کامران علی، جنرل کونسلر حاجی عطاء خان ،ظریف خان ،ظہور حاجی، اقبال حسین کونسلر ریگی للمہ ،ملک میاں خان،فلک شیر، آصف خان ،ملک ایاز خان کونسلر، اعجاز خان،جان روز خان ،عبد اللہ،مخارف شاہ ،حکیم اللہ،ملک واحد خان ،روح اللہ ایدوکیٹ، سراج خان ،اختر زبیر، ملک ممریز ، انجینئر خالد اقبال، اشتیاق خلیل، الٰہی جان، ظاہر گل، فردوس خان، شوکت علی خلیل ، اظہار اللہ خلیل، نعیم جان ہشنگر اور حاجی ربنواز خان ،نوز خان ، ہارون خان ، ملک لیاقت علی، ذیشان علی ،ارباب نوید، نوید اللہ، ارشاد خان ، فرمان، عبداللہ، فیاض خان ، عارف اللہ ، ایوب خان ، مشتاق حسین، واحد گل، زوجہ نواب خان ، زوجہ فضل گل، دختر شمشاد، اور دختر ارشاد نے دیگر خاندانوں اور رشتہ داروں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کر دیا ،تاہم اس سلسلے میں باقاعدہ شمولیت 20مئی کو ہونے والے ایک عظیم الشان جلسے میں بھی کیا جائے گا،صوبائی صدر نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد دیتے ہوئے اپنے خطاب میں مزیدکہا کہ 2018 کا الیکشن پی ٹی آئی اور ان کے حکومتی اتحادیوں کے عوامی محاسبے کا سال ثابت ہو گا اور صوبے کے نوجوان اور عوام تبدیلی کے دعویداروں کو بنی گالہ تک محدود کر کے دم لیں گے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی اورصوبائی حکومت نہ جانے پختونوں کو کس جرم کی سزا دے رہی ہیں تبدیلی کے دعویداروں نے روزگار کے متلاشی نوجوانوں کو تین سال بعد چوہے مارنے پر لگادیاہے اگر یہ تبدیلی ہے تو ایسی تبدیلی کو پختون نہیں مانتے اور 2018ء وعدوں کو ایفا نہ کرنے والوں کا خیبرپختون خوا سے بوریابستر گول کردیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کا خیبرپختون خوا کے غریب عوام کے مسائل سے کوئی سرورکار نہیں اور مسلسل پختونوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیارکررکھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب کچھ اس لئے کیاجارہاہے کہ یہ دونوں جماعتیں پختون دھرتی کو اپنے گھر نہیں مانتے بلکہ وہ کرایہ دار ہیں اورکرایہ داروں کو پرائے گھر کی فکر نہیں ہوتی یہ ہماری دھرتی ہے اور اس کی خدمت ہم کریں گے۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی کے دور حکومت میں ہرطرف ترقی کا دوردورہ تھا تبدیلی والوں کے دور میں ترقی کا پہیہ رک گیاہے اورتین سال گزرنے کے باوجود کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیاگیا بلکہ ہمارے ترقیاتی منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگارہے ہیں۔