مورخہ : 2.5.2016 بروز پیر

عوام ٹی وی سکرینوں تک محدود کاغذی لیڈروں کے عزائم جان چکے ہیں۔ امیر حیدر خان ہوتی
صوبائی حکومت کی نا اہلی کے باعث معمول کی حکومتی سرگرمیوں کے علاوہ ترقی کا پہیہ رک کر رہ گیا ہے۔
موجودہ حکمران مدعی بننے کی بجائے کرایہ دار ہیں اس لیے ان سے خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
حکومت اے این پی کی مقبولیت سے خائف ہو کر دھمکیوں پر اُتر آئی ہے۔ پی کے 30 مردان میں جلسے سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ وزیراعظم کی کرسی کے لئے پنجاب کی سرزمین پردوپہلوانوں کے درمیان کشتی ہورہی ہے کسی کو پختون قوم کے مسائل اورمشکلات کی فکر نہیں، 2018ء اے این پی کا سال ہوگا اور کامیابی کی نوید پی کے 30کے صوبائی حلقے سے آئے گی ، مخالفین اے این پی کی مقبولیت سے خوف زدہ ہیں، ٹی وی سکرینوں تک محدود کاغذی لیڈر اب لوگوں سے نئے وعدے وعید کرنے لگے ہیں لیکن پختون ان کی حقیقت جان چکے ہیں اوروہ کسی کے لالچ ،دباؤ اوردھمکیوں میں آنے والے نہیں امیرحیدرخان ہوتی پیر کی شام حلقہ پی کے 30کے علاقہ موسم کورونہ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کررہے تھے جس میں خان بہادر، سید امین ، محمد عباس،عزت خان سمیت ڈھائی سو سے زائد افراد نے پی ٹی آئی ،پیپلز پارٹی اور جے یو آئی سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا پارٹی کے صوبائی صدر نے انہیں پارٹی ٹوپیاں پہنائیں جلسے سے اے این پی کے ضلعی صدر اورضلع ناظم حمایت اللہ مایار ، جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان ،ضلع کونسل ممبر نعیم انور خان اور یوسی پارہوتی کے جنرل سیکرٹری وحیداحمد خان نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ٹی وی سکرینوں تک محدود کاغذی لیڈروں کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے تبدیلی نام پر سادہ پختونوں کو دھوکہ دیا ،تین سال میں انصاف اور میرٹ کے دعویدار نے نوجوانوں کو روزگارکی بجائے چوہوں کی شکار پر لگایا ان کاکہناتھاکہ نااہل حکمرانوں کاخزانہ خالی ہوچکاہے اب انہیں چوہے مارمہم بھی بند کرنا پڑاہے امیرحیدرخان ہوتی نے کہامیاں نوازشریف اور عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کا خیبرپختون خوا کے غریب عوام کے مسائل سے کوئی سرورکار نہیں اور مسلسل پختونوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیارکررکھی ہے لیکن جو لیڈر اورپارٹیاں پختونوں کی حیثیت نہیں مانتیں میں ان کی سیاست اور پارٹی کو سرے سے ماننے کو تیارنہیں انہوں نے کہاکہ یہ سب کچھ اس لئے کیاجارہاہے کہ یہ دونوں جماعتیں پختون دھرتی کو اپنے گھر نہیں مانتے بلکہ وہ کرایہ دار ہیں اورکرایہ داروں کو پرائے گھر کی فکر نہیں ہوتی یہ ہماری دھرتی ہے اور اس کی خدمت ہم کریں گے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی کے دور حکومت میں ہرطرف ترقی کا دوردورہ تھا تبدیلی والوں کے دور میں ترقی کا پہیہ رک گیاہے اورتین سال گزرنے کے باوجود کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیاگیا انہوں نے کہاکہ عمران خان وزیراعظم بننے کے لئے پنجاب کی سیاست کررہے ہیں جبکہ میاں نوازشریف اپنی کرسی بچانے میں لگے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی ہماری پارٹی مقبولیت سے خائف ہوگئی ہے اور جہاں ہمارے جلسے منعقد ہوتے ہیں تو اس کے منتظمین کو پہلے لالچ اوردھمکیاں دی جارہی ہیں تاہم پختون قوم کسی کے گیڈر بھبکیوں میں آنے والے نہیں وہ ٹی وی سکرینوں کے کاغذی لیڈروں کی حقیقت جان چکے ہیں اوروہ اپنے ووٹ پرچی کی طاقت سے نام نہاد تبدیلی والوں سے بدلہ لیں گے۔امیرحیدرخان ہوتی نے کارکنوں کوہدایت کی کہ وہ پختون قوم کی یکجہتی اور اتحاد واتفاق کے لئے گھر گھر جاکر جرگے کریں اوران میں قوم پرستی کا جذبہ ابھارنے کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ آج ان کے ارماں پورے ہوئے ہیں پختون قوم کے اتفاق اور اتحاد کے لئے جو جدوجہد باچاخان اور رہبرتحریک خان عبدالولی خان نے شروع کی تھی اس سفر میں نوجوان اب ہمارے شانہ بشانہ شامل ہوچکے ہیں انہوں نے کہاکہ پختونوں کی بیداری کی تحریک مردان سے شروع ہوچکی ہے اور 2018میں غیور پختون نام نہاد تبدیلی والوں سے بدلہ لے کر اختیارات بنی گالہ سے واپس پختون خوا منتقل کریں گے ان کاکہناتھاکہ پی کے 30میں مردان کی تاریخی سرزمین سے اٹھی ہے اورپورے پختون خوا میں پھیلے گی انہوں نے کہاکہ کامیابی کی پہلی نوید حلقہ پی کے 30سے آئے گی جو پورے صوبے میں پھیلے گی اور ایک بارپھر صوبے میں سرخ جھنڈے کی حکومت قائم ہوگی ۔