مورخہ 2 اپریل 2016ء بروز ہفتہ
عوامی نیشنل پارٹی کی ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کی مذمت
مرکزی و صوبائی حکومتیں گٹھ جوڑ کر کے پختونوں کی تباہی پر تلی ہوئی ہیں
کسٹم ایکٹ کاپاکستان میں ضم ہونے والی ریاستوں کے ساتھ کئے جانے والے وعدوں کی خلاف ورزی ہے
حکمران مذکورہ علاقے کی مشکلات و مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے کسٹم ایکٹ کا فیصلہ واپس لیں
بحرین کالام روڈ کیلئے 12ارب روپے کے ٹینڈر کے باوجود یہ رقم مرکزی حکومت نے واپس لی۔واجد علی خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متنازعہ ایکٹ کا فیصلہ واپس لے، اپنے ایک بیان میں پارٹی کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل اور سابق صوبائی وزیر واجد علی خان نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں گٹھ جوڑ کر کے پختونوں کی تباہی پر تلی ہوئی ہیں، انہوں نے کہا کہ کسٹم ایکٹ کا نفاذ ملاکنڈ ڈویژن کی پاکستان میں ضم ہونے والی ریاستوں کے ساتھ کئے جانے والے وعدوں کی خلاف ورزی ہے ،انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں آمرانہ فیصلوں کے ذریعے مراعات لینے سے گریز کریں کیونکہ دہشت گردی کی جنگ میں ملاکنڈ ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جس کے بعد اے این پی نے اپنے دور میں وہاں کے تمام زرعی قرضے معاف کئے ،تباہ حال انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے اربوں روپے مختص کئے پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شروع کئے گئے ، انہوں نے کہا کہ قدرتی طور پر ملاکنڈ ڈویژن سیاحت کا بہترین مرکز ہے ، قدرتی وسائل سے مالا مال ، جنگلات، پانی، معدنیات ، باغات اور اس کے علاوہ ملاکنڈ ڈویژن کے لاکھوں افراد دنیا کے مختلف ممالک میں ملک کیلئے زر مبادلہ کماتے ہیں لیکن بدقسمتی سے موجودہ صوبائی و مرکزی حکومتوں کے آ تے ہی مختلف اوقات میں ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے ٹیکسز لاگو کئے گئے جس پر پہلے ہی سے وہاں کی تاجر برادری ، کنٹریکٹرز اور ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والی مذہبی و سیاسی جماعتیں اور مشران سراپا احتجاج ہیں ، انہوں نے کہا کہ کالام روڈ کی تعمیر کیلئے 12ارب روپے رکھے گئے تھے جس کا ٹینڈر بھی مکمل ہو چکا تھا تاہم حکومت نے ٹینڈر کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر کے منصوبہ واپس لے لیا ، واجد علی خان نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتوں کا ملاکنڈ کا مراعاتی پیکج واپس لینے کیلئے ایکا حیران کن ہے،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں ملاکنڈ کے عوام کی خواہشات اور ضروریات کے مطابق نظام عدل کا نفاذ یقینی بنایا گیا ،انہوں نے کہا کہ حکمران مذکورہ علاقے کی مشکلات و مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے کسٹم ایکٹ کا فیصلہ واپس لیں کیونکہ یہی صوبے باالخصوص ملک کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ زدہ سوات کو اس قسم کے رویئے کے باعث عوامی احتجاج اور مزاحمت پر مجبور کرنے سے گریز کیا جائے ورنہ اس کے انتہائی منفی نتائج بر آ مد ہو نگے۔