مورخہ 5 اپریل 2016ء بروز منگل

عوامی نیشنل پارٹی نے کسٹم ایکٹ کے خلاف خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک التواء جمع کرا دی۔
آمرانہ فیصلے سے عو ام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا گیا ہے جو کسی طور صوبے و ملک کے مفاد میں نہیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کے خلاف خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک التواء جمع کرا دی ہے ۔
مرکزی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے نافذ کردہ کسٹم ایکٹ کے خلاف تحریک التوا ء جمع کراتے ہوئے پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا کہ والئی سوات ، نواب آف دیر اور چترال کے پاکستان میں ضم ہوتے وقت تحریری معاہدے موجود ہیں جس کے مطابق 2060ء تک ان علاقوں میں کسٹم ایکٹ و دیگر انکم ٹیکسز لاگو نہیں ہونگے۔
تحریک میں مزید کہا گیا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان دہشتگردی کا شکار جنگ زدہ علاقے ہیں ، لہٰذا حکومتوں کو تباہ حال علاقوں میں پہلے سے دستیاب سہولتیں واپس لینے کی بجائے انہیں مزید مراعاتی و ترقیاتی پیکجز دیئے جانے چاہئیں ،
تحریک میں کہا گیا کہ کسٹم ایکٹ کا نفاذ کر کے وہاں کے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا گیا ہے ،جبکہ ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام حکومتوں کے اس آمرانہ فیصلے کے خلاف احتجاج پر ہیں ،تاجر ، سول سوسائٹی سمیت تمام مکتبہ فکر کے لوگ مظاہرے کر رہے ہیں جو کسی صورت صوبے اور ملک کے مفاد میں نہیں،
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کے عظیم تر مفاد میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کا آمرانہ فیصلہ واپس لیا جائے اور علاقے کی ترقی اور انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے مراعاتی پیکجز کا اعلان کیا جائے۔