مورخہ : 6.3.2016 بروز اتوار

عالمی برادری پشتون طلباء و طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرے۔ بشیر خان مٹہ
افغان حکومت کی جانب سے پشتون سٹوڈنٹس کیلئے سکالرشپ کا اقدام قابل تقلید ہے۔
مخصوص حالات ، انتہا پسندی اور دہشتگردی کے باعث لاکھوں طلباء اور طالبات کو حصول تعلیم میں رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔

پشاور (پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے خارجہ اُمور کے سیکرٹری اور سابق سینیٹر بشیر خان مٹہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ خطے سے تشدد اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے پشتون طلباء اور طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرے کیونکہ کوئی بھی معاشرہ تعلیم کے بغیر نہ تو ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی بعض انتہا پسند رویوں کی تبدیلی ممکن ہے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ ایک بیان میں اُنہوں نے حال ہی میں افغانستان کی حکومت کی جانب سے پشتون سٹوڈنٹس کیلئے سکالرشپ کے اقدام کی تعریف کرتے ہوئے افغان حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بعض دیگر ممالک اور عالمی برادری کو بھی اس اقدام کی تقلید میں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ خطے کے مخصوص حالات ، دہشتگردی کے واقعات اور بعض دیگر رکاوٹوں کے باعث لاکھوں پشتون طلباء اور طالبات کو حصول تعلیم میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کا تعلیمی سفر بری طرح متاثر ہوتا آیا ہے ۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ بعض دیگر اقدامات کے علاوہ سکالرشپ پروگرامز کے ذریعے نئی نسل کی اس مشکل کا حل نکالا جائے تاکہ لاکھوں نوجوانوں کو ایک پر امن اور تعلیم یافتہ معاشرے کی تشکیل کے مواقع دئیے جائیں اور انتہا پسندی کی سوچ کا راستہ روکا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے معاشرے میں سکالرز ، ڈاکٹرز ، انجیئنرز اور دیگر تعلیم یافتہ لوگوں کی شرح میں جتنا اضافہ ہوگا اتنے ہی بہتر نتائج نکلیں گے اور اس مقصد کے حصول کیلئے دیگر ممالک اور عالمی برادری کو ترجیحی بنیادوں پر آگے آنا ہوگا۔