مورخہ : 6.4.2016 بروز بدھ

ظالمانہ ایکٹ کے نفاذ پر عوامی رد عمل لازمی امر ہے۔ سنگین خان ایڈوکیٹ
دہشتگردی اور آفات کے شکار عوام پر مراعات دینے کی بجائے ٹیکسز کا بم گرایا گیا۔

پشاور ( پریس ریلیز) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ نے ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹمز ایکت کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملاکند ڈویژن فیصلے کے خلاف شدید عوامی رد عمل مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا عوام کے معاشی اور نفسیاتی حالت سے جاہلانہ اور بے رحمانہ لاعلمی کامظہر ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ دہشتگردی اور قدرتی آفات سے تباہ حال عوام حکومتی امداد کے منتظر تھے کہ اسی وقت ان پر کسٹمز ایکٹ اور گیر منصفانہ ٹیکسز کا بم گرایا گیا جس کا شدید رد عمل ایک لازمی امر ہے۔ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر نے کہا ہے کہ ہم کبھی بھی پیپر اکانومی اور ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف نہیں رہے اور ہمیشہ سے فاٹا اور پاٹا کے مین سٹریمنگ کیلئے جدوجہد کی ہے لیکن ان علاقوں میں ٹیکسز کے نفاذ سے پہلے ملک کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کیلئے یہاں پر پیداواری صلاحیتوں اور ذرائع ایک جامع پالیسی کے تحت قائم کرنے ہوں گے اور اس کے بغیر یہاں پر کسٹمز اور دیگر ٹیکسز کا نفاذ عوام کے معاشی قتل کے مترادف ہوگا جو کسی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔
نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر نے ملاکنڈ میں ضلعی تنظیموں کو ہدایات جاری کی ہے کہ 10 اپریل کو عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کیلئے پارٹی قیادت کے ہدایات کے مطابق انتظامات کا بندوبست کریں اور ملاکنڈ میں اس غیر منصفانہ قانون کے نفاذ کے خلاف رابطہ عوام مہم تیز کر دیں۔