رخہ 2 جون 2016ء بروز جمعرات

صورتحال انتہائی حساس ہو چکی، ٹارگٹ کلنگ پر حکومتی خاموشی معنی خیز ہے،سردار حسین بابک
سیکورٹی اہلکاروں پر ہونے والے حملوں کے باعث ان اہلکاروں کا مورال گر رہا ہے،
حکومت ٹارگٹ کلرز کے خلاف منظم کاروائی کرے تو یہ صورتحال یکسر ختم ہو سکتی ہے۔
حکومت تماشائی بنی بیٹھی ہے جبکہ دہشتگردی اور بدامنی نے صوبے کی معاشی حالت کو کمزور کردیا ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ آئے روز سیکورٹی اہلکاروں پر ہونے والے حملوں کے باعث ان اہلکاروں کا مورال گر رہا ہے اور عوام میں مایوسی پھیلتی جا رہی ہے ، تاہم اگر حکومت وقت ان کے ہاتھ مضبوط کرے اور ان کی حفاطت کیلئے مناسب اقدامات کرے تو وہ پہلے سے زیادہ مستعدی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکتے ہیں،قاضی کلے میں آرمی صوبیدار راج ولی کی ٹارگٹ کلنگ میں شہادت پر دکھ کا اظہار اور واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ چو نکہ وزیر ستان میں آپریشن کے بعد اکثر دہشت گرد بکھر گئے ہیں اب وہ ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد پورے کر کے اپنے وجود کا احساس دلا نے کی کوشش کر رہے ہیں اور بد قسمتی سے ان کو ایسی دہشت گردی کی کا رروا ئیاں کرنے کا مو قع مل رہا ہے جس کا تدارک ہر صورت ضروری ہے انہوں نے کہا کہ حکو مت کو اس عار ضی امن کے دوران ایسے اقدامات اٹھانے چاہئیں تا کہ دہشت گرد از سر نو منظم نہ ہو سکیں ، انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ ٹارگٹ کلرز دن دیہاڑے آرمی کے ایک صوبیدار کوشہید کر کے فرار ہو گئے ہیں۔ جبکہ صوبائی حکومت نے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے ابھی تک کوئی عملی کردار ادا نہیں کیا۔ صوبے کی صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے جس پر ہر پاکستانی دُکھی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت ٹارگٹ کلرز کے خلاف منظم کاروائی کرے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچائے تو یہ صورتحال یکسر ختم ہو سکتی ہے، سردار بابک نے کہا کہ ہم شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں اور حکومت وقت کی توجہ اس طرف مبذول کراتے ہیں کہ وہ اس قسم کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ٹارگٹ کلرز کا راستہ روکے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی سے صوبے کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔عوام میں خوف و ہراس پھیلتا جا رہا ہے اور عوام عدم تحفظ کے شکار ہیں۔صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے کیونکہ بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے لوگوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بدامنی اور عدم تحفظ کے ماحول پرصوبائی حکومت تماشائی بنی بیٹھی ہے جبکہ دہشتگردی اور بدامنی نے صوبے کی معاشی حالت کو کمزور بنا دیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو بدامنی پرکنٹرول کرنے کیلئے فوری اور عملی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ جبکہ موجودہ صورتحال کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویہ اور پالیسی اپنا نا ہو گی