مورخہ 31مارچ 2016ء بروز جمعرات
صوبے کے بدترین مالی بحران نے حکمرانوں کو بے نقاب کر دیا ہے، سردار حسین بابک
حکومت فنڈز کے بروقت استعمال اور محاصل کے اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکامی کا غصہ افسران پر نکالنے کے درپے ہے
تحریک انصاف کے چیئرمین کی صوبے کے معاملات میں بے جا مداخلت اور ان کے تصوراتی ایجنڈے نے صوبے کو پیچھے دھکیل دیا ہے ،
میڈیا اور دہشت گردوں کے بل بوتے پر صوبے کی حکمران بننے والی تبدیلی سرکار عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کا بدترین مالی بحران ان کی نا اہلی کا مظہر ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف فنڈز کے بروقت استعمال میں ناکامی اور دوسری طرف محاصل کا ہدف پورا نہ کرنے کے گھمبیر مسئلے سے دوچار ہے جس سے صوبے کی بدترین اور کمزور ترین گورننس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے انہوں نے کہا کہ میڈیا اور دہشت گردوں کے بل بوتے پر صوبے کی حکمران بننے والی تبدیلی سرکار عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی ہے ، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت فنڈز کے بروقت استعمال میں ناکامی اور محاصل کے اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکامی کا غصہ افسران پر نکالنے کے درپے ہے جبکہ صوبائی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے صوبے میں سیاسی مخالفین اور سرکاری افسران کی پگڑیاں اچھالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت اور لاپرواہی کا ملبہ مرکزی حکومت پر ڈال کر صوبے کے عوام کو بیوقوف بنانے کے چکر میں ہے تاہم عوام ان کے اصل چہرہ دیکھ چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے مسائل و مشکلات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے فنڈز کے 17فیصد استعمال اور محاصل کے اہداف کے حصول میں 80فیصد ناکامی تبدیلی سرکار کی کارگزاری کا واضح ثبوت ہیں۔
سردار حسین بابک نے کہا کہ حکومت نے صوبے کو مشکلات و مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا ہے جبکہ میڈیا کے سامنے جھوٹ اور فریب کے دعوے کی پالیسی پر گامزن ہیں ،انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین آئے روز احتجاج پر مجبور ہیں ، ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری ،اغواء برائے تاوان اور لاقانونیت نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے ، جبکہ ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری کا طوفان کھڑا کر دیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین کی صوبے کے معاملات میں بے جا مداخلت اور ان کے تصوراتی ایجنڈے نے صوبے کو پیچھے دھکیل دیا ہے ، وزراء اور حکومتی ذمہ دار اسمبلی کے فلور پر اپنی بے اختیاری اور بے بسی کا رونا رو رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتیاں اور ان کی مشکلات میں اضافے کی پالیسی کو ختم کرنا چاہئے۔