2016 صوبے کی حکمران جماعتیں میدان میں نکل کر دہشتگردی کا مقابلہ کریں ۔ حاجی غلام احمد بلور

صوبے کی حکمران جماعتیں میدان میں نکل کر دہشتگردی کا مقابلہ کریں ۔ حاجی غلام احمد بلور

صوبے کی حکمران جماعتیں میدان میں نکل کر دہشتگردی کا مقابلہ کریں ۔ حاجی غلام احمد بلور

مورخہ : 27.1.2016 بروز بدھ

صوبے کی حکمران جماعتیں میدان میں نکل کر دہشتگردی کا مقابلہ کریں ۔ حاجی غلام احمد بلور
جب ہم پر حملے ہو رہے تھے تو موجودہ حکمران جماعتیں مخالفت تو ایک طرف مذمت بھی نہیں کر رہی تھیں۔
صوبائی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے عوام کو تحفظ فراہم کرے۔
آج وہ لوگ صوبے میں برسر اقتدار ہیں جو کہ ماضی میں حملہ آوروں کی وکالت اور معاونت کرتی رہی ہیں۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر اور رکن قومی اسمبلی حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ اے این پی نے دہشتگردی کے خلاف لیڈروں سمیت سینکڑوں شہیدوں کی قربانیاں دیکر انتہا پسندی اور دہشتگردی کا نہ صرف یہ کہ ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ ان قربانیوں کے ذریعے پاکستان کی سلامتی ’ جمہوریت اور آئین کی پاسداری کی جنگ بھی لڑی تاہم اتنی قربانیوں کے باوجود اے این پی کو ایک منظم طریقے سے پارلیمانی نمائندگی سے محروم رکھا گیا اور ان لوگوں کو برسراقتدار لایا گیا جنہوں نے ہر دور میں طالبان اور انتہا پسندی کی حمایت اور معاونت کی۔
بلور ہاؤس میں کارکنوں سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ جس وقت اے این پی کے لیڈر اور کارکن شہید ہو رہے تھے’ آج جو لوگ برسراقتدار ہیں وہ ان حملوں کی مذمت بھی نہیں کر رہے تھے بلکہ طالبان وغیرہ کی حمایت کر رہے ہیں۔ آج صوبے میں ان کی حکومت ہے تو ان کی سیاسی ، اخلاقی اور حکومتی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دہشتگردوں کے خلاف میدان میں نکل کر ان کا مقابلہ کرے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے عوام کا تحفظ اور سیکیورٹی کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی صوبے کی حکمران جماعتوں کے طور پر دہشتگردی کی سیاسی ، حکومتی مزاحمت کے پابند ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں صوبے کے عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کی تشویش اور خوف کا نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی اور دور رس اقدامات کیے جائیں اور مصلحت کوشی اور نااہلی پر مبنی رویوں سے گریز کیا جائے ورنہ صوبے کے عوام ان حماعتوں کا محاسبہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
حاجی غلام احمد بلور نے مزید کہا کہ ہم اپنے پیاروں اور عوام کے جنازے اُٹھاتے تھک چکے ہیں اور نیشنل ایکشن پلان کے باوجود حملوں کی تعداد میں اضافے اور مزید حملوں کی اطلاعات نے عوام کو بدترین خوف اور تشویش میں مبتلا کر کے رکھ دیا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ریاستی پالیسیوں پر نظر ثانی کرکے دہشتگردی کا راستہ روکا جائے اور صوبائی حکومت کے وہ ذمہ داران اور ان کے قائدین سامنے آکر صورتحال کا مقابلہ کریں۔

شیئر کریں