مورخہ : 2 فروری 2016 بروز منگل

صوبے کو دہشتگردی کے علاوہ لاقانونیت اور جرائم کی بدترین صورتحال کا سامنا ہے۔ سردار حسین بابک
شریف النفس لوگوں کے علاوہ کاروباری حلقے بھی بڑی تعداد میں دوسرے صوبوں کو منتقل ہو رہے ہیں۔
جرائم کی شرح میں خطر ناک اضافے سے محسوس یہ ہو رہا ہے کہ جسیے صوبے میں حکومت کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہو۔
لاقانونیت کی یہ شرح برقرار رہی تو صوبے میں انارکی پھیل جائیگی جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے صوبے میں امن وامان کی بگڑی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کو دہشتگردی کے علاوہ ڈاکہ زنی ، بھتہ خوری ، غنڈہ گردی اور دیگر جرائم کے بدترین حالات کا سامنا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ شریف النفس شہریوں کی بڑی تعداد صوبے سے دیگر علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق اُنہوں نے جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح سے متعلق میڈیا رپورٹس پر تشویش کا اطہار کرتے ہوئے کہا ہے صوبہ ، شہر ناپرسان کا نقشہ پیش کر رہا ہے اور واقعات کی شرح سے لگ یہ رہا ہے جیسے صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ کرک میں ایک منظم جرائم پیشہ گروپ کئی ہفتوں سے لوگوں کو لوٹنے میں مصروف ہے اور عوام میں بدترین خوف پایا جاتا ہے جبکہ پشاور سمیت دیگر اہم شہر بھی بھتہ خوروں ، ٹارگٹ کلرز اور ڈاکہ زنوں ، اغواء کاروں کے نرغے میں ہیں تاہم حکومت غفلت ، لاپرواہی اور خاموشی پر مبنی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار اخلاقی جرائم کی تعداد میں خطر ناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور کوئی بھی شہری ، علاقہ یا طبقہ محفوظ نہیں ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ شریف النفس لوگ خوف اور عدم تحفظ کے باعث بڑی تعداد میں دیگر علاقوں اور صوبوں میں منتقل ہو رہے ہیں جبکہ صوبے کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے تاجر اور سرمایہ کار بھی دوسرے صوبوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔
اے این پی کے رہنما نے مزید کہا کہ صوبے کو بیک وقت دہشتگردی اور لاقانونیت کا سامنا ہے تاہم حکومت نے اس تمام صورتحال پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور عوام کے تحفظ کیلئے کچھ بھی نہیں کیا جا رہا۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو صوبے میں بدترین انارکی پھیل جائیگی اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی کیونکہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔