مورخہ 26مئی2016ء بروز جمعرات

صوبے میں ٹارگٹ کلرز کی حکومت ہے اور حکومتی نمائندے کہیں نظر نہیں آرہے۔ میاں افتخار حسین
صوبائی حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے لاشوں کے تحفے دے رہی ہے۔
حکمران اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں بُری طرح ناکام ہو چکے ہیں، ٹارگٹ کلرز شہر میں دندناتے پھر رہے ہیں۔
پتنگ چوک میں ایف سی اہلکاروں کا قتل افسوسناک ہے،صوبے کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے گزشتہ روز پتنگ چوک پشاور میں ایف سی اہلکاروں پر فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ایف سی کے ڈسٹرکٹ آفیسر عامر باچا کی اپنے محافظ اور ڈرائیورگل رسول سمیت شہادت پر دکھ اوررنج و غم کا اظہار کیا ہے،میاں افتخار حسین سانحے میں شہید ہونے والے ایف سی آفیسر کے ڈرائیور گل رسول کے گھر گئے اور اُن کی شہادت پر اُن کے اہل خانہ کیساتھ اظہار تعزیت کی۔
اس موقع پر میاں افتخار حسین نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کو صرف اس لیے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ دہشتگردوں کے راستے کی رکاوٹ بنتے ہیں اور اس کے نتیجے میں متعدد سیکیورٹی اہلکارشہید ہو جاتے ہیں۔ اُنہوں نے شہید ہونے والے تمام اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن کیلئے اُن کی قربانی رائیگاں نہیں جائیگی جبکہ حکومت کو چاہیے کہ دہشتگردوں کا راستہ روکنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کریں اور جس حد تک ممکن ہو سکے وہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھ مضبوط کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ پشاور سمیت صوبے میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، صوبے میں ٹارگٹ کلرز کی حکومت ہے اور حکومتی نمائندے کہیں نظر نہیں آرہے،اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ ٹارگٹ کلرز دن دیہاڑے ایف سی کے ایک بڑے آفیسر کو اُن کے محافظ اور ڈرائیور سمیت شہید کر کے کھلے عام نکل گئے ہیں۔ جبکہ صوبائی حکومت نے اُن کی گرفتاری کیلئے ابھی تک کوئی عملی کردار ادا نہیں کیا۔ صوبے کی صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے جس پر ہر پاکستانی دُکھی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبہ میں کھلے عام دہشتگردی ہو رہی ہے ، بے گناہ افراد کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے لیکن صوبائی حکومت کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔ اس قسم کے واقعات پشاور میں پچھلے چند دنوں سے تسلسل کیساتھ پیش آ رہے ہیں مگر نہ تو کوئی دہشتگرد گرفتار ہوتا ہے اور نہ ہی ٹارگٹ کلنگ کو روکا جا رہا ہے۔ صوبائی حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے لاشوں کے تحفے دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدامنی نے صوبے کے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے جبکہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات سے معمولات زندگی مفلوج ہو چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی اور غفلت نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور حکمران اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں بُری طرح ناکام ہو چکے ہیں، ٹارگٹ کلرز شہر میں دندناتے پھر رہے ہیں لیکن حکومت کہیں بھی نظر نہیں آ رہی جبکہ سیکورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی جان و مال داؤ پر لگے ہوئے ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں اور حکومت وقت کی توجہ اس طرف مبذول کراتے ہیں کہ وہ اس قسم کے واقعات سے نہ ڈریں اور نہ ہی پیچھے ہٹیں بلکہ ان کا مقابلہ کریں اور اس واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ٹارگٹ کلرز کا راستہ روکیں اور اس واقعہ میں ملوث دہشتگردوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے موثر اقدامات کریں۔اُنہوں نے شہید اہلکاروں کیلئے مغفرت اور غمزدہ خاندانوں کیلئے صبر جمیل کی دُعا کی۔