مورخہ : 8مئی2016ء بروز اتوار

صوبے میں تجارتی و کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں، ایمل ولی خان
حکومت تاجروں سے ان کا روزگار چھیننے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ،عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں
تاجر برادری کو بد ترین صورتحال کا سامنا ہے تاہم حکمران خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں

پشاور ( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی منفی پالیسیوں کے باعث مقامی صنعتیں اور کاروباری سرگرمیاں تباہ ہو رہی ہیں اور اسی رویے کا نتیجہ ہے کہ مختلف حلقے اور طبقے حکومت کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی تھی کہ موجودہ حکومت صوبے کے مسائل اور معاشی سرگرمیوں کا احساس کرتے ہوئے چھوٹی بڑی صنعتوں کی ترقی اور بحالی کے علاوہ متعلقہ لوگوں کے تحفظ پر خصوصی توجہ دے دیتی ۔تاہم صورتحال بدتر ہوتی جا رہی ہے اور حکمرانوں کو معاملات کی سنگینی کا سرے سے احساس ہی نہیں ہے۔ حالانکہ صوبے کو پہلے ہی سے معاشی بدحالی کا سامنا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ایک طرف صوبے کے عوام اور تاجروں کو امن و امان کی بدترین صورتحال اور عدم تحفظ کا سامنا ہے تو دوسری طرف حکومت ان سے ان کا روزگار اور کاروبار چھیننے پر تلی ہوئی ہے۔ اگر حکومت نے اپنے رویوں پر نظر ثانی نہیں کی اور صوبے کے مخصوص حالات کے تناظر میں مختلف حلقوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا تو عوام مشترکہ جدوجہد اور احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ بھتہ خوری ٹارگٹ کلنگ روز کا معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں تاہم حکمران کواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں اور انہوں نے اپنی تمام توجہ شجرکاری پر مرکوز کر رکھی ہے ، انہوں نے کہا تاجروں و عوام کو تحفظ دینا صوبائی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے جبکہ وہ اپنی ذمہ داریاں کسی صورت پوری کرنے کو تیا رنہیں۔