مورخہ30 اپریل2016ء بروز ہفتہ

پشاور میں صوبے اور قومیتوں کے حقوق پر باچا خان ٹرسٹ ریسرچ سنٹر اور باچا خان ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کا سیمینار
اے این پی کے مرکزی قائدین اور قوم پرست دانشوروں کا اٹھارویں ترمیم اور دیگر اقدامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار
کسی کو بھی اٹھارویں ترمیم کو ناکام بنانے یاختم کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔بشریٰ گوہر
پاکستان کی سلامتی اور استحکام ایسے فیڈریشن سے وابستہ ہے جس میں تمام قومیتوں اور صوبوں کو ان کے حقوق حاصل ہو۔ افراسیاب خٹک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی قائدین اور قوم پرست دانشوروں نے قومیتوں اور صوبوں کے حقوق اور مفادات کو درپیش خطرات ، جذبات اور بعض قوتوں کے منفی عزائم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کے نتائج اور اثرات کے باوجود ملک کے بااختیاراور مقتدر حلقے اب بھی صوبہ کش پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں تاہم کسی کو بھی اٹھارویں ترمیم سمیت بعض دیگر آئینی اور سیاسی اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق ہفتہ کے روز پشاور میں باچا خان ٹرسٹ ریسرچ سنٹر اور باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’ پختونخوا کا تناظر اور مستقبل ‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد ہوا جس سے اے این پی کے مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر ، مرکزی رہنما افراسیاب خٹک ، مرکزی خارجہ سیکرٹری بشیر خان مٹہ ، ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر خادم حسین اور محقق مشتاق مجروح نے خطاب کیا اور مقالے پیش کیے۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر نے کہا کہ بعض طاقتور حلقے کوشش کر رہے ہیں کہ صوبوں کو اٹھارویں ترمیم اور بعض دیگر تاریخی اقدامات کے ذریعے جو حقوق ملے ہیں ان کو ایک سازش کے ذریعے غیر موثر اور ناکام بنایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کو نام کی شناخت سمیت جو محدود حقوق ملے ہیں ان کے حصول کیلئے اے این پی ، اس کے اکابرین اور کارکنوں نے طویل جدوجہد کرکے مثالی قربانیاں دی ہیں کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جائیگی کہ وہ صوبے اور پشتونوں کے حقوق پر سودے بازی کریں یا محدود حقوق کو کسی سازش کی نذر کرے۔ اُنہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر صوبہ خیبر پختونخوا کے آئینی نام کو پی کے وغیرہ کے ذریعے غیر مقبول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور صوبے کے نام کیساتھ منفی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے افراسیاب خٹک نے کہا کہ صوبوں اور قومیتوں کا مسئلہ کئی دھائیاں گزرنے کے باوجود حل طلب ہے۔ حالانکہ اس ایشو سے متعلق حکمرانوں کی پالیسیوں کے باعث 70 کی دہائی میں پاکستان ٹوٹ بھی چکا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک منظم منصوبے کے تحت آزادی کے بعد پشتونوں کو صوبوں ، فاٹا اور پاٹا جیسے غیر فطری انتظامی یونٹوں میں تقسیم کیا گیا اور اب بھی طاقتور حکمران حلقے اسی رویے پر گامزن ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ون یونٹ کے ذریعے صوبوں سے جو حقوق اور اختیارات چھینے گئے ان میں سے اب بھی بہت سے اختیارات مرکز یا پنجاب کے قبضے میں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام ایک ایسے فیڈریشن سے وابستہ ہے جس میں تمام صوبوں کو ان کے اختیارات حاصل ہو۔
سیمینار سے اپنے خطاب میں بشیر خان مٹہ نے کہا کہ صوبے کے حقوق ، اختیارات اور اثاثہ جات موجودہ حکمرانوں کی نااہلی کے باعث خطرے سے دوچار ہیں اور صوبے پر ایسے لوگ مسلط ہیں جن کو اس مٹی کے اجتماعی مفادات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ سیمینار میں ان رہنماؤں کے علاوہ صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ، جمیلہ گیلانی ، اعجاز یوسفزئی ، خوشحال خان خٹک ، ڈاکٹر سعید الرحمان ، محسن داوڑ ، ارباب الطاف ، ثناء گلزار ایڈوکیٹ ، شہزاد یوسفزئی ، زلان مومند اور متعدد دیگر بھی شریک ہوئے۔