مورخہ : 23.3.2016 بروز بدھ

صوبے اور فاٹا کے معاملات اور حالات حکمرانوں کی عدم توجہی کے باعث بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ امیر حیدر خان ہوتی
نواز شریف اور عمران خان کے ایجنڈے اور ترجیحات میں پشتونوں کے حقوق کا تحفظ سرے سے شامل ہی نہیں ہیں۔
عمران خان کی تبدیلی کا دعویٰ عوام سے ووٹ لینے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔ عوام ان کی حقیقت جان چکے ہیں۔
اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں دہشتگردی اور دیگر چیلنجز کے باوجود ریکارڈ ترقیاتی کام کیے۔
صوابی میں ورکرز کنونشن سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان کو پشتونوں اور صوبہ خیبر پختونخوا کی مشکلات ، چیلینجز اور حالات کا نہ تو کوئی ادراک ہے اور نہ ہی یہاں کے معاملات ان رہنماؤں کی ترجیحات اور ایجنڈے میں شامل ہیں۔
وہ پی کے 35 صوابی میں ورکرز کنونشن کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے جس سے صوبائی سیکرٹری جنرل سردار حسین بابک اور ضلعی صدر ، ناظم امیر رحمان خان نے بھی خطاب کیا۔
امیر حیدر خان ہوتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عمران خان اور نواز شریف دونوں کاہدف تخت لاہور اور اسلام آباد میں اختیارات اور قبضے کا ایجنڈہ ہے اور اسی طرز عمل کا نتیجہ ہے کہ ان کو صوبہ خیبر پختونخوا یا جنگ زدہ پشتونوں کے معاملات ، ایشوز اور مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے ایشوز ان دونوں لیڈروں کے ایجنڈے میں ہی شامل نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ صوبے اور فاٹا کے معاملات ان کی عدم توجہی کے باعث بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اور صوبے کے عوام میں بدترین قسم کی بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تبدیلی کے نعروں اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا ۔ عوام عمران خان کے دعوؤں کی حقیقت جان چکے ہیں اور ان پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ تبدیلی کے اعلانات محض ووٹ ہتھیانے کے ایک بہانے کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام جوق در جوق اے این پی میں شامل ہو رہے ہیں اور 2018 کے الیکشن کے نتائج 2013 کے حالات سے قطعاً مختلف ہوں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک منصوبے کے تحت مردم شماری کے انعقاد میں تاخیر سے کام لیا جا رہا ہے اور اس کے پس پردہ محرکات کا مقصد چھوٹے صوبوں خصوصاً خیبر پختونخوا کو اس کے جائز حقوق سے محروم رکھناہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان جس بلدیاتی نظام کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے وہ ان کے رویے اور فنڈز اور وسائل کی عدم فراہمی کے باعث شدید ناکامی سے دوچار ہو گیا ہے اور سینکڑوں منتخب عوامی نمائندے اپنے بنیادی حقوق اور اختیارات کیلئے دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں دہشتگردی اور بعض دیگر چیلنجز کے باوجود ریکارڈ ترقیاتی کام کر کے نئی مثالیں قائم کیں ۔ امن کی بحالی کیلئے بڑی قیمت چکائی ، یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے بنائے اور صوبے کے حقوق کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اے این پی عوام کی قوت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق 2018 کے الیکشن میں پوری تیار کیساتھ اُترے گی اور کامیابی کے بعد اپنے اسلاف کے وژن ، ایجنڈے اور اہداف کے حصول کیلئے متعین کردہ راستے پر گامزن رہ کر پشتونوں کے حقوق کی اپنی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرکے دم لے گی۔