مورخہ : 9.3.2016 بروز بدھ

صوبے اور فاٹا کے صحافیوں نے امن کے قیام کیلئے اہم کردار ادا کر کے قربانیاں دیں۔ میاں افتخار حسین
صحافیوں نے خطے کی نمائندگی کرتے ہوئے ایشوز کو بہتر انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا۔
صوبے اور فاٹا کے صحافیوں کو خطر ناک نوعیت کے حالات کا سامنا رہا ، کے ایچ یو جے کی کایبنہ سے بات چیت

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سابق وزیر میاں افتخار حسین نے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد صوبے اور خطے کے حقیقی موقف کو بہتر انداز میں پیش کر کے اپنے فرائض کو احسن طریقے سے نبھایا ہے۔
پشاور پریس کلب میں خیبر یونین آف جرنلٹس کی نو منتخب کابینہ کے صدر سیف الاسلام سیفی ، جنرل سیکرٹری عزیز بونیری اور دیگر کو مبارکباد کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ صوبے اور فاٹا کو گزشتہ کئی برسوں کے دوران جس نوعیت کے خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑا اُس کے دوران صحافیوں نے اپنی خدمات کے ذریعے نمائندہ کردار ادا کیا اور اہم ایشوز کو اُجاگر کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ پشاور پریس کلب غالباً دُنیا کا واحد صحافتی ادارہ ہے جس کو خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا جبکہ درجنوں صحافیوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانوں کی قربانیاں دیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اے این پی کی حکومت نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے متعدد اہم اقدامات اُٹھائے۔ اُن کے اہل خانہ کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کیں جبکہ صوبہ بھر میں نئے پریس کلب قائم کیے اور پرانے کلبوں کو اپ گریڈ کیا تاکہ صحافیوں کی سہولیات میں مزید اضافہ کیا جائے۔
اُنہوں نے نو منتخب کابینہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ وہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے علاوہ امن کے قیام کیلئے حسب معمول اپنا فعال کردار ادا کرتے رہیں گے۔