مورخہ 29مارچ 2016ء بروز منگل

صوبائی حکومت کی نااہلی کے باعث صوبے کے مفادات اور حقوق داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔ سردار حسین بابک
صوبہ شدت پسندی ، بدامنی ، بھتہ خوری اور بدانتظامی کی لپیٹ میں ہے۔
اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں بدامنی ، دہشتگردی کے خاتمے کے علاوہ ریکارڈ ترقیاتی کام کیے۔
اے این پی پی کے 8 کے ضمنی الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی۔ پشاور میں پی کے 8 کے اجلاس سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی نے پشاور کے حلقہ پی کے 8 کے ضمنی الیکشن میں بھرپور طریقے سے حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ منطم طریقے سے الیکشن میں حصہ لینے کیلئے تیاریاں کریں۔ اس بات کا فیصلہ خدائی خدمتگار غلام محمد کی رہائش گاہ پر منعقدہ اہم اجلاس کے دوران کیا گیا جس میں پارٹی کے تنظیمی عہدیداران ، دیرینہ کارکنوں اور صاحب الرائے مشران کے علاوہ صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ، صوبائی سیکرٹری مالیات خوشدل خان ایڈوکیٹ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف تجاویز کی روشنی میں فیصلہ کیا گیاکہ پارٹی پی کے 8 کے ضمنی الیکشن میں بھرپور طریقے سے شرکت کرے گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ موجودہ حکومت کی تین سالہ ناقص کارکردگی سے صوبے کے عوام بری طرح مایوس ہو گئے ہیں اور ان پر یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ تبدیلی اور ترقی کے دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے کے آئینی حقوق پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ بیڈ گورننس ، نااہلی ، بدانتظامی اور اقرباء پروری نے صوبے کی مشکلات میں بدترین اضافے کا راستہ ہموارکر دیا ہے اور عوام کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے پر شدت پسندوں ، بھتہ خوروں ، جرائم پیشہ افراد اور قبضہ مافیا کا راج ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے فنڈز یا تو استعمال نہیں ہو رہے یا ضائع ہو رہے ہیں جس کے باعث صوبے کے حقوق اور مفادات داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تذلیل کی جا رہی ہے اور مختلف حلقے احتجاج پر ہیں۔ حالت تو یہ ہے کہ حکومت اس بلدیاتی نظام کوناکام کرنے پر تلی ہوئی ہے جس کو پی ٹی آئی نے خود متعارف کرایا ہے۔ دوسری طرف حکومت نے صوبائی اسمبلی اور قانون سازی سے مذاق بنایا ہوا ہے اور صوبے کے وسائل اتحادیوں میں سیاسی اور اقرباء پروری کی بنیاد پر تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں صوبے کے حقوق کو تحفظ دیا۔ ریکارڈ ترقیاتی کام کیے ، بدامنی کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کیا اور دہشتگردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ عوام موجودہ حکومت کی نااہلی اور ناکامی سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ اے این پی کے علاوہ دوسری کوئی قوت نہیں کر سکتی اور یہی وجہ ہے کہ عوام کی نظریں اے این پی پر لگی ہوئی ہیں اور مستقبل اے این پی کا ہے۔